انتظار
۔۔۔
سہانے موسموں کی راہ تکتے
مری آنکھیں بھی اب پتھرا گئی ہیں
مری آشاؤں کی کلیوں کے اوپر
خزائیں ہی خزائیں چھا گئی ہیں
سہانے موسموں کے راستوں میں
ابھی تو دور تک پتھر پڑے ہیں
ابھی تو دور تک خنجر گڑے ہیں
مگر اب بھی ہیں تیری راہ تکتے
مری پتھرائی آنکھوں کے جھروکے
کبھی تو آئیں گے مجھ کو منانے
دلِ ویران کا گلشن کھلانے
کبھی تو ختم ہو گی یہ اذیت
یہ لمبی انتظارِ یار کی رت۔۔۔!
Related posts
-
پروین شاکر ۔۔۔ مشورہ
ننھی لڑکی ساحل کے اتنے نزدیک ریت سے اپنے گھر نہ بنا کوئی سرکش موج ادھر... -
پروین شاکر ۔۔۔ نئے سال کی پہلی نظم
اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی... -
فہمیدہ ریاض ۔۔۔ اب سو جاؤ
اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے...
