ہجر
۔۔۔
ہجرتوں کے موسم میں
چاہتوں کی اَن بَن میں
یاد کے دریچوں سے
اک ترے تصور کا
واہمہ سا ہوتا ہے
اور اِسی تصور میں
خواب ٹُوت جاتا ہے
خواب کے بکھرنے سے
خوش گمان لمحوں کا
مان ٹُوٹ جاتا ہے
اس بھرم کے رکھنے کو
زندگی کی پلکوں پر
آنسوؤںکی برکھا جب
گیت گنگنائے تو
صبح ہو ہی جاتی ہے
رات کٹ ہی جاتی ہے۔۔۔!
Related posts
-
سیف الدین سیف ۔۔۔ مسجد و منبر کہاں ، میخوار و میخانے کہاں
مسجد و منبر کہاں ، میخوار و میخانے کہاں کیسے کیسے لوگ آ جاتے ہیں سمجھانے... -
طارق متین ۔۔۔ یہاں کے لوگ ہیں بس اپنے ہی خیال میں گم
یہاں کے لوگ ہیں بس اپنے ہی خیال میں گم کوئی عروج میں گم ہے کوئی... -
سیف الدین سیف ۔۔۔ جب تصور میں نہ پائیں گے تمہیں
جب تصور میں نہ پائیں گے تمھیں پھر کہاں ڈھونڈنے جائیں گے تمھیں تم نے دیوانہ...
