ہجر
۔۔۔
ہجرتوں کے موسم میں
چاہتوں کی اَن بَن میں
یاد کے دریچوں سے
اک ترے تصور کا
واہمہ سا ہوتا ہے
اور اِسی تصور میں
خواب ٹُوت جاتا ہے
خواب کے بکھرنے سے
خوش گمان لمحوں کا
مان ٹُوٹ جاتا ہے
اس بھرم کے رکھنے کو
زندگی کی پلکوں پر
آنسوؤںکی برکھا جب
گیت گنگنائے تو
صبح ہو ہی جاتی ہے
رات کٹ ہی جاتی ہے۔۔۔!
Related posts
-
کاشف حسین غائر ۔۔۔ ہر گام بدلتے رہے منظر مرے آگے
ہر گام بدلتے رہے منظر مرے آگے چلتا ہی رہا کوئی برابر مرے آگے کیا خاک... -
توقیر عباس ۔۔۔ یہ فخر ہے اے مجرئی جاگیر ہماری
یہ فخر ہے اے مجرئی جاگیر ہماری سادات کے غم سے ہوئی تعمیر ہماری توقیر سدا... -
توقیر عباس ۔۔۔ عمر چھ ماہ نام اصغر ہے
عمر چھ ماہ نام اصغر ہے عالمِ کم سنی میں حیدر ہے اک تبسم نکھارتا ہے...
