دلشاد احمد ۔۔۔ دریا کنارے بیٹھا بھی پیاسا لگا مجھے

دریا کنارے بیٹھا بھی پیاسا لگا مجھے میلے میں آ کے بھی کوئی تنہا لگا مجھے مسکاں منافقت کی مرا دل جلا گئی دشمن کا منہ پہ بولنا اچھا لگا مجھے ہر سانس جیسے وجہِ شکستِ وجود ہے ہر لمحہ ایک گھن کی طرح سا لگا مجھے جیسے ٹریڈ مل پہ ہوں اور چل نہیں رہا ایسا بھی ہو رہا ہے کچھ ، ایسا لگا مجھے آتا گیا قریب تو کھلتا چلا گیا اک شخص جو کہ دُور سے اچھا لگا مجھے دیکھا اُسے جو پیار کا چشمہ اتار کر…

Read More

دلشاد احمد ۔۔۔ ہجر

ہجر ۔۔۔ ہجرتوں کے موسم میں چاہتوں کی اَن بَن میں یاد کے دریچوں سے اک ترے تصور کا واہمہ سا ہوتا ہے اور اِسی تصور میں خواب ٹُوت جاتا ہے خواب کے بکھرنے سے خوش گمان لمحوں کا مان ٹُوٹ جاتا ہے اس بھرم کے رکھنے کو زندگی کی پلکوں پر آنسوؤںکی برکھا جب گیت گنگنائے تو صبح ہو ہی جاتی ہے رات کٹ ہی جاتی ہے۔۔۔!

Read More