روزہ
۔۔۔۔
بھوکا پیاسا ہی اک نہیں کافی
آنکھ بھی روزہ دار ہو تیری
کر تلاوت مگر سمجھ کے تو
صوم کیا فلسفہ ہے کیا اس کا
وہ مخاطب ہے تجھ سے قرآں میں
مت سنیں کان کچھ غلط صاحب
ہاتھ بھی روزہ دار ہوں تیرے
کر ملاوٹ نہ کوئی چیزوں میں
مہنگے داموں نہ بیچ ،رب سے ڈر
پیدا اشیا کی یوں نہ قلت کر
وہ ہے حاضر بھی اور ناظر بھی
وہ تو باطن سے بھی ترے واقف
رحم کر خود پہ ہوش کر بندے
اپنی حد سے نہ تو گزر بندے
Related posts
-
امجد اسلام امجد ۔۔۔ حد
حد سوچا بہت ، پہ کھل نہ سکا آج تک ، کہ کیوں کرتے ہیں لوگ... -
ضد ۔۔۔ پروین شاکر
ضد ۔۔۔۔ میں کیوں اُس کو فون کروں! اُس کے بھی تو علم میں ہو گا... -
صغیر احمد صغیر ۔۔۔ اژدھا
اژدھا ۔۔۔۔ میں وہ نہیں صغیر، میں جو تھا بدل گیا یہ کیسی شکل ہے میں...
