کیا خاک خود کو اڑانے کی خاطر
وہی روگ دل کے مٹانے کی خاطر
رہی ہے مچل کب سے وحشت یوں دل کی
نیا شور اندر مچانے کی خاطر
مری مسکراہٹ کا کیا پوچھتے ہو
یہ ہے زخمِ دل کو چھپانے کی خاطر
پلا اپنی آنکھوں سے الفت کی صہبا
نہیں آیا پیاسا میں جانے کی خاطر
گرا ہوں کبھی کھا کے ٹھوکر اگر تو
نہیں آیا کوئی اٹھانے کی خاطر
۔۔۔۔۔۔
حبس موسم میں مرنے لگا ہوں میاں
رات گہری سے ڈرنے لگا ہوں میاں
زندگی ایسے کیسے کٹے گی بھلا
بات بے بات لڑنے لگا ہوں میاں
عشق مجھ سے کوئی کیوں کرے گا بھلا
بات جو حق کی کرنے لگا ہوں میاں
دو سہارا مجھے ہجر میں جاں گئی
درد سے اب بکھرنے لگا ہوں میاں
کیسے انصاف ہو گا مرے ملک میں
عدل کہتا ہے سڑنے لگا ہوں میاں
میں تو مر کے بھی زندہ رہوں گا سنو
رنگ شعروں میں بھرنے لگا ہوں میاں
