عبدالرئوف زین ۔۔۔ دو غزلیں

کیا خاک خود کو اڑانے کی خاطر وہی روگ دل کے مٹانے کی خاطر رہی ہے مچل کب سے وحشت یوں دل کی نیا شور اندر مچانے کی خاطر مری مسکراہٹ کا کیا پوچھتے ہو یہ ہے زخمِ دل کو چھپانے کی خاطر پلا اپنی آنکھوں سے الفت کی صہبا نہیں آیا پیاسا میں جانے کی خاطر گرا ہوں کبھی کھا کے ٹھوکر اگر تو نہیں آیا کوئی اٹھانے کی خاطر ۔۔۔۔۔۔ حبس موسم میں مرنے لگا ہوں میاں رات گہری سے ڈرنے لگا ہوں میاں زندگی ایسے کیسے کٹے…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ عبدالرئوف زین

میں دلوں سے تھا سب کے نکالا ہوا ان کی نسبت ملی تو میں اعلیٰ ہوا قرب معراج کی شب ملا آپ کو وصل کا معجزہ تھا ، نرالا ہوا آپ سارے مبارک مجھے دیجیے نعت گوئی مرا اب حوالہ ہوا یہ زمانہ بھٹکتا اندھیروں میں تھا ’’آپ آئے جہاں میں اُجالا ہوا‘‘ آپ کا نام ہی عین دینِ خدا آپ سے دین کا بول بالا ہوا نعتِ خیرالبشر جب کہی شوق سے اوج پر بخت کا پھر ہمالہ ہوا زین کو جب نبی کی محبت ملی زندگی کا مکمل…

Read More