نادیہ سحر ۔۔۔ کاغذی کشتیاں بنانے میں

کاغذی کشتیاں بنانے میں
کٹ گئی عمر جی لگانے میں

اب نہ دل ہے نہ درد باقی ہے
تُو ملا بھی تو کس زمانے میں

اک بھرم تھا سو وہ بھی ٹوٹ گیا
کیا ملا تجھ کو آزمانے میں

کچھ تو کردار آپ کا بھی ہے
درمیاں فاصلے بڑھانے میں

سارے موسم گزر گئے مجھ میں
دیر کر دی نا مجھ تک آنے میں

صاف دھڑکن سنائی دیتی ہے
جیسے دل ہے مرے سرہانے میں

نیند یا خواب کے جھروکوں میں
میں کہاں ہوں ترے فسانے میں

رایگاں کر دی ہم نے بھی تو سحر
زندگی روٹھنے منانے میں

Related posts

Leave a Comment