بات افسوس کی ہے دکھ کی بھی ۔۔۔۔ بات افسوس کی ہے دکھ کی بھی شرم کی بھی ہے کچھ حیا کی بھی بات حیرت کی بھی ہے سوچیں تو زیب دیتا ہے کیا ہمیں بولو چاند آتے نظر ہی رمضاں کا مہ مبارک کا پاس کیا رکھا روزہ داروں کو اس کے پیاروں کو بیچ کے مہنگے داموں اشیا سب عازمِ عمرہ آخری عشرے کچھ تو خوفِ خدا کیا جائے دھوکاخود کو نہ یوں دیا جائے دل کی تسکین کا سنو ساماں اس کے بندوں کے کام آنے میں…
Read MoreTag: عاصم بخاری کے قطعات
عاصم بخاری ۔۔۔ ذکر اچھا نہیں برائی کا
ذکر اچھا نہیں برائی کا تذکرہ تم کرو بھلائی کا چار دن کے بخاری جیون میں فائدہ کیا کسی ، لڑائی کا اس جوانی کے دور میں اکثر شوق ہوتا ہے خود نمائی کا اپنی سنتا تو کوئی کیا سنتا تیری جانب تھا رخ خدائی کا نوکری بھی ہے نوکری لیکن لطف اپنا ہے اک پڑھائی کا وقت نے بادشہ بنایا ہے پاس کچھ تو کرو خدائی کا جرم عاصم ہمارا تھا اتنا شکوہ ہم سے ہوا نہ بھائی کا
Read Moreعاصم بخاری ۔۔۔ تصویر
پیش کرتے ہیں حاضرہ تصویر شعر حالات کا ،خلاصہ ہیں جو بڑھاتے ہیں حوصلہ میرا میرے قاری مرا ، اثاثہ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں ہی پڑھتے رہے کتابوں سے معنی اس لفظ کے ، مرے بھائی اس کی پیشانی جب سے دیکھی ہے مہ جبیں لفظ کی ، سمجھ آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چھینا جھپٹی کا اب ہے وہ عالم ڈاکو ہر اک ، دکھائی دیتا ہے اب تو اتنے ہیں لگ چکے پودے شہر جنگل دکھائی دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے یہ فطری سنکھار ، کا موسم تیرے جوبن نکھار ، کا موسم…
Read Moreعاصم بخاری ۔۔۔ وہ گرمی کا موسم
عاصم بخاری ۔۔۔ قطعات
تکبر کام آتے نہیں ، بڑے دعوے بَڑ،جوماریںوہ منہ کی کھاتے ہیں شاملِ حال ہو ، تکبر تو ’’ ٹائی ٹَینِک‘‘بھی ڈوب جاتے ہیں فادر ڈے ویسے حیرت تو اس پہ بنتی ہے آپ ناراض ہو ، نہ جائیں تو اہلِ مغرب کے ہی ، بتانے پر ’’ باپ کا یوم ‘‘، ہم منائیں تو رخ تتلیاں پھول کب سدا بھنورے جلوے رہتے نہیں ، اداؤں کے بات یہ ذہن میں ، مری رکھنا رخ بدلتے بھی ہیں ہواؤں کے لبادے روپ سارے یہ دنیا ، داری کے دلِ نادان…
Read More