امجد اسلام امجد ۔۔۔ حد

حد سوچا بہت ، پہ کھل نہ سکا آج تک ، کہ کیوں کرتے ہیں لوگ اپنی اناؤں کا قتلِ عام چہروں پہ نقش ہوتی سیاہی کو بھول کر دوڑے چلے ہی جاتے ہیں بے سمت ، بے لگام یہ سارا اہتمام وہ کرتے ہیں کس لیے؟ ہیں ان کے جتنے خیر طلب اُن کو چھوڑ کر سایوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں کس لیے؟ یہ بھی نہیں کہ ان کو نہیں انت کی خبر دن رات ان کے سامنے جاتے ہیں ان سے لوگ زیرِ زمین ڈھیر سی مٹی…

Read More

امجد اسلام امجد ۔۔۔ غزلِ مسلسل

غزلِ مسلسل مانا بہ دیر ایک سی حالت نہیں رہی پر کیا کریں کہ صبر کی طاقت نہیں رہی کچھ بھی نہیں تھا پاس تو رہتے تھے جب بھی خوش اور اب کسی بھی چیز میں لذّت نہیں رہی چھاتا نہیں ہے ذہن پہ وہ وصل ہو کہ ہجر شاید لہو کی آگ میں شدّت نہیں رہی دنیا کے تو حساب سے ہم کامیاب ہیں البتہ خود سے ملنے کی فرصت نہیں رہی ہم کیوں زمیں کا بوجھ بنے تم کو اس سے کیا تم پر تو بے وفائی کی…

Read More

ایوب خاور ۔۔۔ ہر دل عزیز امجد اسلام امجد کے لیے

اے پیارے امجد! ہمارے امجد! کہاں گئے ہو ہم اپنی اپنی روانیوں میں کہاں پہ پہنچے تم اپنی دھن میں کہاں چھپے ہو یہ کس سے پوچھیں تھکن سفر کی ہمارے پیروں سے دل تک آئی تو مڑ کے دیکھا مڑ کے دیکھا تو تم نہیں تھے ، کہاں چھپے ہو! اے پیارے امجد! ہمارے امجد سبھی کے امجد تم تو بھائی یہیں کہیں اس ہجومِ یاراں کے بیچ بیٹھے کوئی لطیفہ سنا رہے تھے نہ جانے کس شام کی اتھا میں اتر گئے ہو بھلا کوئی اس طرح بھی…

Read More

احمد جلیل ۔۔۔۔ امجد اسلام امجد کی یاد میں

امجد اسلام امجد کی یاد میں ۔۔۔۔۔۔۔ ایک روشن ستارہ ڈوب گیا منزلوں کا اشارہ ڈوب گیا علم و فن کا غرور تھا امجد فن کا وہ استعارہ ڈوب گیا اس کے فن پارے روشن و رخشاں روشنی میں وہ سارا ڈوب گیا اس کے کردار ہیں امر سارے خود اجل سے وہ ہارا ڈوب گیا دیکھتا تھا وہ ساحلوں سے جسے اس بھنور میں کنارا ڈوب گیا جیت ، امید اور رجا کا نقیب موت سے وہ بھی ہارا ڈوب گیا آسمانِ ادب کا ماہِ منیر آج امجد ہمارا…

Read More

انور مسعود ۔۔۔ نظم (بیادِ امجد اسلام امجد)

نظم (بیادِ امجد اسلام امجد) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہے انور ہمارے ساتھ یہ کیا ہو گیا ہے؟ غم و اندوہ کی شِدّت نہ پوچھو یہ لگتا ہے بہت کچھ کھو گیا ہے زبانِ خلق دیتی ہے گواہی وہ جنّت کی طرف ہی تو گیا ہے رہو چُپ چاپ امجد کے سرہانے ابھی کچھ لِکھتے لِکھتے سو گیا ہے

Read More