یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں) ۔۔۔۔ اُڑان قاتل ہے یہ سفر تو اِسی میں اِک دن عذاب راتوں کے قافلوں کو صبحِ منزل اُجال لے گی تلاشِ منزل کی اِس لگن میں، اگرچہ پائوں پہ آبلے ہیں مگر یقیں ہے، مجھے یقیں ہے کہ حشر تک بھی وہ ساری آنکھیں کھلی رہیں گی جنھیں سحر کی کسی تمنا نے رَت جگوں کا ملال بخشا مجھے یقیں ہے، مجھے یقیں ہے یہ خوں کے دریا رواں نہ ہوں گے دیارِ اقدس کے زرد آنگن میں بسنے…
Read More