شبیر احمد آکاش ۔۔۔ پرچھائی

پرچھائی
۔۔۔۔
دستِ راست میں مو قلم تھامے
وہ کینوس پر رنگوں کا جادو بکھیرنے میں مصروف تھی
زلفیں کوتاہ تھیں
انہیں پیشانی کے سامنے سے ہٹانے کی
ضرورت اسے محسوس نہیں ہوئی۔
لال، پیلے، اور ہرے رنگوں کی آمیزش سے
تصویر کے خد و خال بڑی نفاست سے ابھر رہے تھے
میں نے خود کو اس کے قریب جانے سے روکے رکھا،
کہیں یہ دخل اندازی اْس کی خلوت پر گراں نہ گزرے۔
تصویر کے نقش یکے بعد دیگرے
سامنے آتے جا رہے تھے
تیکھی ناک، لب لعل ، گلابی رخسار،
دراز زلفیں، اونچا قد، اور غزال جیسی آنکھیں!
نہ جانے اْس کے دل کو اتنا حسین چہرہ تراشنے کی
ضرورت کیوں پیش آئی۔
میں سوچنے لگا!!!
شاید اْس کے اپنے وجود کی خوبصورتی
کینوس پر اظہار کا تقاضا کر رہی تھی
جب تصویر مکمل ہوئی، تو میں
اْسے قریب سے دیکھنے کے لیے آگے بڑھا
لیکن تصویر پر اْس کی سیاہ پرچھائی
نظروں کے سامنے آتے ہی
میرا قدم بے اختیار پیچھے ہٹ گیا

Related posts

Leave a Comment