عقیدت ۔۔۔ صغیر احمد صغیر

محبت کا سکھا دیجے سلیقہ یا رسول اللہ
مرے دل میں ہو مدحت کا اجالا یا رسول اللہ

ابھی عشاق سی میری نہ صورت ہے نہ سیرت ہے
غلامی کا کروں کیسے میں دعویٰ یا رسول اللہ

مری ہر سانس ہی وقفِ درودِ پاک ہو جائے
ثنا خوانی بنے میرا حوالہ یا رسول اللہ

ہے مدت سے کسک دل میں مجھے در پر بلا لیجے
مرے غم کا بھی ہو جائے مداوا یا رسول اللہ

میں کاش ان کے زمانے میں اگر پیدا ہوا ہوتا
بلانے پر میں کہتا: جی میں آیا یا رسول اللہ

Related posts

Leave a Comment