امجد اسلام امجد ۔۔۔ حد

حد
سوچا بہت ، پہ کھل نہ سکا آج تک ، کہ کیوں
کرتے ہیں لوگ اپنی اناؤں کا قتلِ عام
چہروں پہ نقش ہوتی سیاہی کو بھول کر
دوڑے چلے ہی جاتے ہیں بے سمت ، بے لگام

یہ سارا اہتمام وہ کرتے ہیں کس لیے؟
ہیں ان کے جتنے خیر طلب اُن کو چھوڑ کر
سایوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں کس لیے؟

یہ بھی نہیں کہ ان کو نہیں انت کی خبر
دن رات ان کے سامنے جاتے ہیں ان سے لوگ
زیرِ زمین ڈھیر سی مٹی لیے ہوئے
جس ہاتھ میں تھیں سارے خزانوں کی کنجیاں
اب اُس میں ہے بس ایک عجب مستقل سا ڈر

خدمت میں ان کی مست تھے بڑھتے ہوئے جو صفر
اب اُن سے ان کا رابطہ باقی نہیں رہا
اب وہ بھی اپنی اصل میں ہیں بسکہ ایک صفر
جس کو کوئی فقیر بھی لیتا نہیں وہ صفر
چیزوں کا یہ جہان ہے بس ایک واہمہ
ایسا نگر کہ جس میں کوئی نیک و بد نہیں
اک گونج سی ہے شہرِ خموشاں میں چارسُو
جس کا ازل تو ہے کہیں لیکن ابد نہیں
کرتی ہے اس سوال کو حل ایسے زندگی
اتنے بڑے جہاں میں کہیں جس کا ردّ نہیں

تنکا بھی ایک‘ ساتھ کوئی لے نہیں گیا
اس سے بڑی تو وقت کی کوئی سند نہیں
لکھا ہوا ہے ہر کسی لوحِ مزار پر
’’دولت کی حد ہے پر کوئی لالچ کی حد نہیں‘‘

Related posts

Leave a Comment