کل مجھ سے جو کہتے تھے کہ کیوں رہتے ہو خاموش بولا میں جب اُن سے تو ہوئے کیوں وہ گراں گوش غم بھی ہیں اگر ساتھ خوشی کے ، تو نہ گھبرا ہیں روزِ ازل سے ہی گُل و خار ، ہم آغوش پیوستہ ہیں اک دوسرے سے، علّت و معلول تیرا ہے قصور اور کسی کا نہ کوئی دوش کر سکتی ہے کیا فکرِ سلیم ، اپنا کوئی کام جب جوش کے ہو زیرِنگیں ،سلطنتِ ہوش آقاؐ ہے مِرا سُرمہ ، تیری خاک کفِ پا ہے تاجِ فضیلت…
Read MoreDay: جون 30، 2026
اظہر عباس ۔۔۔ منزل الجھ گئی ہے میاں راستے سمیت
منزل الجھ گئی ہے میاں راستے سمیت ہم پھر بھی چل رہے ہیں اسی سانحے سمیت دنیا میں کچھ نہیں ہے سوائے وصال کے تجھ کو زمیں میں گاڑ دوں اس فلسفے سمیت؟ اس میں لکھا ہوا ہے سبھی برج ہیں خلاف تو پھر بھی ہے قبول اسی زائچے سمیت سننے میں آ رہا ہے کہ تو عالی ظرف ہے اے ہجر! دے پناہ مجھے قہقہے سمیت دو دو عطا ہوئی ہیں یہ شاید اسی لیے دیکھیں گی تجھ کو ساتھ میں آئے ہوئے سمیت پھر ہم بھی مان لیں…
Read Moreاظہر عباس ۔۔۔ مت کہہ مجھے بیکار، مرے یار ، انا الاشک
مت کہہ مجھے بیکار، مرے یار ، انا الاشک اک روز میں ہوں گا تجھے درکار ، انا الاشک میں اس کے شہیدوں کی ہوں تاریخ کا راوی ہوں خواب قبیلے کا عزادار ، اناالاشک پھر آنکھ سے بھی دیس نکالا مرا آیا بس اتنا بتایا تھا کہ سرکار ، انالاشک کیوں اتنا گھمنڈ آپ کو ہے ضبط و انا پر کر جاؤں گا مسمار یہ دیوار، اناالاشک یہ آنکھ کی سرحد بھی بدل دیتی ہے سب کچھ اس پار انا الحزن تو اُس پار ، اناالاشک یہ سارے سخنور…
Read Moreرشید آفرین ۔۔۔ نہیں انسان کے کوئی برابر
نہیں انسان کے کوئی برابر ملائک کب ہوئے ہیں اس کے ہم سر کوئی آئے جواں ایسا دِلاور بچا لے آدمیت کو جو آ کر جہاں تنہائیاں ہوں اور اندھیرا کہیں اُس کو بھلا ہم دشت یا گھر عجب اک خوف کی زد میں ہوں کب سے کہیں مجھ کو نہ لے ڈوبے مِرا ڈر لیے پھرتا ہوں جو شانوں پہ اپنے نہیں میرا مجھے لگتا ہے وہ سر طلب میری کرم کی بھیک ہر پل درِ اقدسؐ کا ہوں ادنیٰ گداگر اُبھر کر جا لگا آخر کنارے تھا جو…
Read More