سبطِ رسول کے حضور بہت سے راستوں میں تو نے جو رستہ چنا تھا فرشتے آج تک حیرت میں ہیں کیسا چنا تھا بہت سے شہر رہنے کے لیے حاضر تھے لیکن ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے صحرا چنا تھا جو پیچھے آرہے تھے ان سے تو غافل نہیں تھا کہ تو نے راستے کا ایک اک کانٹا چنا تھا جہاں میں کون تھا دوشِ نبی تھا جس کا مرکب اسی خاطر برہنہ پائی نے تجھ سا چنا تھا زمانہ جانتا ہے کون تھا جو پار اترا کہ تو نے…
Read MoreTag: محمد اظہارالحق
محمد اظہار الحق
چٹائی اور پیوند ! اور یہ زرپوش امت حرا اور ثور کے غاروں میں جا کر رو پڑوں گا
Read Moreبدل گئی ہے بہت آس پاس کی صورت (غلام حسین ساجد) ۔۔۔۔ نوید صادق
بدل گئی ہے بہت آس پاس کی صورت (دیباچہ: مجموعہ کلام "اعادہ”) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستر کی دہائی اُردو غزل میں ایک انقلاب کی دہائی ہے۔ ثروت حسین، محمد اظہارالحق اور غلام حسین ساجد اِس انقلاب کے بڑوں میں سے نمایاں نام ہیں۔ثروت حسین نے ایک قلیل عرصۂ شعر میں اپنے انمول اور انمٹ نقوش ثبت کرنے کے بعد موت کو گلے لگا لیا، محمد اظہارالحق کچھ عرصہ بعد تقریباً خاموش ہو گئے۔ اب ان کی کبھی کبھار کوئی غزل نظر پڑتی بھی ہے تو یہی احساس ہوتا ہے کہ وہ ستّر…
Read Moreہوا میں ٹھنڈک بتا رہی ہے ۔۔۔۔۔ محمد اظہارالحق
ہوا میں ٹھنڈک بتا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوا میں ٹھنڈک بتا رہی ہے فراق کی رات آ رہی ہے طویل ہونے لگے ہیں سائے وہ دور جھاڑی سے پھڑپھڑاتا پروں کو نکلا کوئی پرندہ عجیب سا درد، دور، دل میں کہیں اٹھا ہے کہیں کوئی جیسے مر رہا ہے فضا میں واماندہ بادلوں کے غریب ٹکڑے بھٹک رہے ہیں اداس سا ہول زینہ زینہ اتر رہا ہے جدائی تیزاب ہے کہ چہرے پہ جس کے قطرے ٹپک رہے ہیں وہ ایک سورج ہی تھا جو سردی سے جسم میرا بچا…
Read More