غلام حسین ساجد ग़ुलाम हुसैन साजिद

عجیب خوف سا طاری ہے گھر بدلتے ہوئے میں سر اُٹھا نہ سکوں گا گلی میں چلتے ہوئے Un étrange vertige m’envahit en quittant ce toitJe n’oserai lever les yeux, marchant sous leur loi Ein seltsames Zittern beim Wechsel des HeimsMit gesenktem Blick geh’ ich durch Straßen aus Schweigen und Reims 家を変えるたびに不安が染みる、この街を歩くとき、顔を上げられない自分がいる。 搬家时有种莫名的恐惧,走在街上,我不敢抬头望去。 घर बदलते वक़्त अजीब सा डर है मन में,गली से गुज़रते हुए नज़रें झुकी रहेंगी धरती की चुप्पी बन के।

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ منزلِ عشق عیاں ، زیست کا حاصل معلوم  (دو غزلہ)

منزلِ عشق عیاں ، زیست کا حاصل معلوم ہے مرے چارہ گروں کو مری مُشکل معلوم کون ہو گا جسے دُھتکار دیا جائے گا کون ہو گا ترے احباب میں شامل معلوم دہر بدلا ہے نہ دُنیا کی روش بدلے گی کون ہو گا یہاں تکریم کے قابل معلوم اپنی تہذیب کے پابند رہا کرتے ہیں اور ہوتے ہیں انھیں سارے سلاسل معلوم کس پہ ڈالے گا عنایت کی نظر ، جانتے ہیں کون ہے اُس کے تئیں عشق میں کامل معلوم منتخب اُس کو کِیا ہے مری دل داری…

Read More

بدل گئی ہے بہت آس پاس کی صورت (غلام حسین ساجد) ۔۔۔۔ نوید صادق

بدل گئی ہے بہت آس پاس کی صورت (دیباچہ: مجموعہ کلام "اعادہ”) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستر کی دہائی اُردو غزل میں ایک انقلاب کی دہائی ہے۔ ثروت حسین، محمد اظہارالحق اور غلام حسین ساجد اِس انقلاب کے بڑوں میں سے نمایاں نام ہیں۔ثروت حسین نے ایک قلیل عرصۂ شعر میں اپنے انمول اور انمٹ نقوش ثبت کرنے کے بعد موت کو گلے لگا لیا، محمد اظہارالحق کچھ عرصہ بعد تقریباً خاموش ہو گئے۔ اب ان کی کبھی کبھار کوئی غزل نظر پڑتی بھی ہے تو یہی احساس ہوتا ہے کہ وہ ستّر…

Read More