اکمل حنیف ۔۔۔ یہ جو سب سے الگ کھڑا ہوں میں ماہنامہ بیاض اپریل 2023 )

یہ جو سب سے الگ کھڑا ہوں میں
سب کے چہروں کو پڑھ چکا ہوں میں

خود سے ملنے کا راستہ ہے یہی
تجھ سے ملنے کو چل پڑا ہوں میں

یاد آئی ہے رفتگاں کی مجھے
اپنی آنکھوں سے بہہ رہا ہوں میں

دکھ یتیمی کا کمسنی میں ملا
اس لیے عمر سے بڑا ہوں میں

اتنا قد بھی مرا غنیمت ہے
پیڑ کے سائے میں اُگا ہوں میں

دل ابھی تک ہے بورے والا میں
گرچہ لاہور آ گیا ہوں میں

مجھ کو رہتی نہیں معاش کی فکر
جب پرندوں کو دیکھتا ہوں میں

کوئی سنتا نہیں ہے میری بات
ایسے لگتا ہے مر گیا ہوں میں

اک اذیت ہے یہ خموشی بھی
اس لیے روز چیختا ہوں میں

باپ جیسا لگا مجھے اکمل
جب بھی اُس پیڑ سے ملا ہوں میں

Related posts

Leave a Comment