بنا کے عرشِ معلی، نماز پڑھتا ہے
امام خاک پہ بیٹھا نماز پڑھتا ہے
سوار گرتے رہے ٹوٹتی رہی تسبیح
بوقتِ عصر اکیلا نماز پڑھتا ہے
وضو کرایا گیا خاک و خون سے جس کو
اسی کے ساتھ زمانہ نماز پڑھتا ہے
شریک ہوتا ہوں ماتم میں با وضو ہو کر
یہ جسم سارے کا سارا نماز پڑھتا ہے
ہماری آنکھ میں فیصل فرات بہتا ہے
جہاں شہید کا لاشہ نماز پڑھتا ہے
