سلام ۔۔۔ شاہد ذکی

سلام

نہ گھر ‘ نہ راہ گُذر ہے’ عجیب منظر ہے
قیام ہے’ نہ سفر ہے ‘عجیب منظر ہے

سُنا تھا زر کا تہہ ِ خاک سے نکل آنا
مگر یہ خاک ہی زر ہے’ عجیب منظر ہے

ہرے درختوں کے دامان و دست خالی ہیں
بُریدگاں پہ ثمر ہے’ عجیب منظر ہے

شکار منع ہے جس میں’ اُسی مہینے میں
امام خون میں تر ہے ‘عجیب منظر ہے

نثار کرب و بلامیں، تری اداسی پر
ترا یہ عیب ہُنر ہے، عجیب منظر ہے

مِٹا مِٹا کے شبیہوں کو جاوداں کرنا
عجیب آئنہ گر ہے، عجیب منظر ہے

وہ پھول جو کبھی بُوسہ گہِ رسالت تھا
وہ آج خاک بسر ہے’ عجیب منظر ہے

Related posts

Leave a Comment