سلام بحضور سيدالشہداء امام حسين عليہ السلام ۔۔۔۔ شاہد ذکی

سلام بحضور سيدالشہداء امام حسين عليہ السلام مہتابِ محرم کی قسم کم نہيں ہوتا صدياں ہوئيں مولا ترا غم کم نہيں ہوتا اس اجڑے ہوۓ گھر کی سخاوت نہيں رکتی وہ ہوں کہ نہ ہوں،ان کا کرم،کم نہيں ہوتا ديکھو سرِ نيزہ کہ قدِ اہلِ صداقت سر ہو بھی اگر جاۓ قلم، کم نہيں ہوتا يوں ہے کہ سلگتے ہيں وہ خيمے مرے اندر يوں ہے کہ مری آنکھ ميں نم ،کم نہيں ہوتا اس بات پہ کٹتی ہيں چراغوں کی زبانيں کيوں تذکرۂ شامِ الم ، کم نہيں ہوتا…

Read More

شاہد ذکی ۔۔۔ رزمِ حق میں وہ اکیلا بھی تھا لشکر جیسا

رزمِ حق میں وہ اکیلا بھی تھا لشکر جیسا ابنِ حیدرؑ کا حوالہ بھی ہے حیدرؑ جیسا بہتے دریاؤں نے جھک جھک کے سلامی دی تھی ظرف اس تشنہ دہن کا تھا سمندر جیسا اور کچھ دن مجھے زنجیر زنی کرنے دو زخم باہر نہیں آیا ابھی اندر جیسا یہ ستارے جو مجھے زخم نما لگتے ہیں آسماں لگتا ہے زینبؑ تری چادر جیسا پھر گئی ہی نہیں ویرانیِ باغِ دنیا پھول مہکا نہ دوبارہ کوئی اصغرؑ جیسا ڈھونڈتی پھرتی ہیں اب وقت کی بوڑھی آنکھیں کیا جوانوں میں جواں…

Read More

سلام ۔۔۔ شاہد ذکی

سلام نہ گھر ‘ نہ راہ گُذر ہے’ عجیب منظر ہے قیام ہے’ نہ سفر ہے ‘عجیب منظر ہے سُنا تھا زر کا تہہ ِ خاک سے نکل آنا مگر یہ خاک ہی زر ہے’ عجیب منظر ہے ہرے درختوں کے دامان و دست خالی ہیں بُریدگاں پہ ثمر ہے’ عجیب منظر ہے شکار منع ہے جس میں’ اُسی مہینے میں امام خون میں تر ہے ‘عجیب منظر ہے نثار کرب و بلامیں، تری اداسی پر ترا یہ عیب ہُنر ہے، عجیب منظر ہے مِٹا مِٹا کے شبیہوں کو جاوداں…

Read More