حضورِ شاہ چلیں گے، صدا کریں گے ہم
جو کوئی زخم سے چیخ اُٹھا، کیا کریں گے ہم
فضا کے محبسِ بے رنگ سے نکلنے کو
بہت ہُوا تو پرندے رہا کریں گے ہم
ہمارا ظرف اگر آزمانا چاہتا ہے
وہ ابتدا تو کرے، انتہا کریں گے ہم
کسی بلا سے محبت گزرنا چاہتی ہے
خراج اس کو مگر کیا ادا کریں گے ہم
نہ دیکھ مرتی ہوئی رات کی یہ آخری سانس
نہ دن ہی نکلا تو سورج کو کیا کریں گے ہم
ہزار داغِ شبِ غم، گُلِ سحر کا صلہ
تو کیا ملے گا اگر دل بُرا کریں گے ہم
درِ یقیں درِ امکاں کے ساتھ ہے خالد
سو ایک دَر کو کبھی نیم وا کریں گے ہم
Related posts
-
بسمل صابری ۔۔۔ حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور
حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور لب کہتے ہیں کچھ اور انھیں... -
بسمل صابری ۔۔۔ سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا
سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا جب آئی شب ترے خوابوں نے مجھ... -
حفیظ ہوشیارپوری ۔۔۔ محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے میں...
