نہیں تمنا ملے ساری کائنات مجھے
حضورؐ چاہیے اک چشمِ التفات مجھے
تمہاری چشمِ عنایت کی جستجو میں شہا
کہاں کہاں لیے پھرتی ہے یہ حیات مجھے
تمہاری بات ہی تحریر کرتا رہتا ہوں
تمہاری بات ہی لگتی ہے اچھی بات مجھے
تمہاری یاد کے سائے میں ہو رہی ہے بسر
تمہاری رحمتیں رکھتی ہیں ساتھ ساتھ مجھے
وہ جس زمین پہ قدسی اترتے رہتے ہیں
اسی زمین پہ مل جائے ایک رات مجھے
تمہارے ذکر کا غلبہ ہے میرے دل پہ حضورؐ
غموں سے دے گا یہی سلسلہ نجات مجھے
عطا ہو خواب میں جس رات آپؐ کا جلوہ
لگے گی رات وہ مثل شبِ برات مجھے
حضور جامی سا جذبہ مجھے عنایت ہو
کہ باغ باغ رکھے دل کو تیری نعت مجھے
میں ڈوبتا ہوں تو آتا ہے لب پہ نام ترا
سنبھالتی ہے مصیبت میں تیری ذات مجھے
تمہارے عشق نے مضبوط کر دیا مجھ کو
تمہارے دم سے ہے ہر چیز میں ثبات مجھے
جو ان کا نام عقیدت سے لکھتا رہتا ہے
عطا ہوئی ہے وہ دانش قلم دوات مجھے
