پھر تمنا اُڑان بھرتی ہے
خواب آنکھوں میں پھر مچلتے ہیں
پھر پرندے ہرے سمندر پر
رنگ سارے چھڑکتے جاتے ہیں
پھر ہواؤں میں جاگتی ہے کسک
پھر کسی یاد کی سیہ آندھی
دل کے اطراف سے گزرتی ہے
ایک لمحہ کہیں پہ روتا ہے
زندگی زاویہ بدلتی ہے۔۔۔
دور کچھ پربتوں کے دامن میں
ایک بستی میں شام ڈھلتی ہے۔۔!
Related posts
-
پروین شاکر ۔۔۔ بلاوا
میں نے ساری عمر کسی مندر میں قدم نہیں رکھا لیکن جب سے تیری دعا میں... -
پروین شاکر ۔۔۔ نک نیم
تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو ٹھیک ہی کہتے ہو! کھیلنے والے سب ہاتھوں کو میں... -
پروین شاکر ۔۔۔ جدائی کی پہلی رات
آنکھ بوجھل ہے مگر نیند نہیں آتی ہے میری گردن میں حمائل تری بانہیں جو نہیں...
