سلام ۔۔۔ حمیدہ شاہین

سلام غمِ حسینؑ حقیقت بھی، استعارا بھی یہ اپنے آپ میں غم بھی ہے ، غم کا چارا بھی ہے ایک یاد دہانی یہ ذکرِ کرب و بلا کہ اپنے درد بھی سانجھے ہیں اور خسارا بھی پکارتے ہیں زمان و مکاں بھی نوحہ کناں غمِ حسینؑ ہمارا بھی ہے تمہارا بھی بیانِ قصّہِ غم آنسوؤں پہ فرض ہوا کسی کمی کو جو کرتے نہیں گوارا بھی کمالِ آیۂ بالصّبر والصّلوٰۃ حسینؑ جو ایک وعدہ بھی ، امّید بھی ، سہارا بھی کس آفتاب پر اَن ہونیوں کی شام آئی…

Read More

حمیدہ شاہین ۔۔۔ خود سے ملتی نہیں نجات ہمیں

خود سے ملتی نہیں نجات ہمیں قید رکھتی ہیں خواہشات ہمیں ہم نے مانگی سکون کی چادر رنج بولے کہ بیٹھ ، کات ہمیں کچھ تو عادت ہے بے یقینی کی اور کچھ ہیں تحیّرات ہمیں اِس تعلّق کا سچ قبول کیا جوڑتی ہیں ضروریات ہمیں آنکھ کا آئنہ عطا کر کے اس نے دے دی ہے کائنات ہمیں بس کہ جھگڑا طویل ہوتا گیا سوجھتی جا رہی تھی بات ہمیں لاکھ رستا بدل بدل کے چلیں مل ہی جائیں گے حادثات ہمیں

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ حمیدہ شاہین

حمیدہ شاہین اُن کا پہلا شعری مجموعہ ’’دستک‘‘جو غزلوں اور نظموں پر مشتمل تھا، ۲۰۰۵ء میں منظر عام پر آیا۔اُن کی شاعری در اصل جدید حسّیت اور عصری حسّیت کا عمدہ امتزاج ہے۔وجدانی کیفیات اور شعوری تجربات و مشاہدات کا حسنِ توازن ہے۔ اِس لیے یہ آج کی حقیقی شاعری ہے جو اُردو غزل کا تاریخی ارتقا بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے اور لچک دار اِس قدر ہے کہ عصری آشوب سے بھی پہلو تہی نہیں کرتی۔ اسلوبِ بیاں ایسا کہ روایت سے آگہی کلام میں جھلکتی محسوس…

Read More

حمیدہ شاہین

شاید پیچھے آنے والے ہم سے بہتر دیکھیں ہم نے کچھ دروازے کھولے ، کچھ پردے سرکائے

Read More

حمیدہ شاہین ۔۔۔ گرہ کھل رہی ہے

"گرہ کھل رہی ہے” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُدھڑنے کا لمحہ سَروں پر لٹکتی ہوئی تیغ ہے اب گماں اور حقیقت کی نیلی فضا میں کہیں تیرتا ہے وہ ذرّہ سا پَل جب ترے ذہن و دل پر وہ امکان اُترے جو سب راز کھولے تری انگلیاں اُس سِرے کو پکڑ لیں جہاں اک قدیمی تسلسل تعطّل میں رکھا گیا ہے تری مضطرب انگلیاں ایک ہلکی سی جنبش سے ترتیب تبدیل کر دیں سِرا کھینچ کر تُو نئے ہی تسلسل کا آغاز کر دے وہ دہشت ،جو امکان کی قید میں ہے اُسے…

Read More

نجیب احمد نمبر ۔۔۔ جنوری 2020ء تا جون 2020ء

نجیب احمد نمبر ۔.۔ کارواں جنوری تا جون 2020ء DOWNLOAD

Read More

حمیدہ شاہین ……. مجبور انگلیوں نے وہ نمبر مِلا لیا

مجبور انگلیوں نے وہ نمبر مِلا لیا یکدم ہی زندگی کو سماعت نے آ لیا لہجے میں اک جلے ہوئے رشتے کی آنچ تھی یخ بستگی کا بوجھ اسی نے اٹھا لیا آواز تھی کہ ایک بھڑکتا الاؤ تھا ہم نے بھی لفظ لفظ کو مشعل بنا لیا تھوڑی سی بے نیام تھی شمشیرِ گفتگو اس کو بھی اَن سُنی کی رِدا میں چھپا لیا جس لفظ پر شکوک بڑھانے کا شک پڑا اس کا فساد بات بدل کر دبا لیا جھکّڑ تھمے تو گردِ گلہ ساز بھی چھَٹی طوفاں…

Read More