خود سے ملتی نہیں نجات ہمیں
قید رکھتی ہیں خواہشات ہمیں
ہم نے مانگی سکون کی چادر
رنج بولے کہ بیٹھ ، کات ہمیں
کچھ تو عادت ہے بے یقینی کی
اور کچھ ہیں تحیّرات ہمیں
اِس تعلّق کا سچ قبول کیا
جوڑتی ہیں ضروریات ہمیں
آنکھ کا آئنہ عطا کر کے
اس نے دے دی ہے کائنات ہمیں
بس کہ جھگڑا طویل ہوتا گیا
سوجھتی جا رہی تھی بات ہمیں
لاکھ رستا بدل بدل کے چلیں
مل ہی جائیں گے حادثات ہمیں
