لوگ زندہ نظر آتے تھے مگر تھے مقتول دست قاتل میں بظاہر کوئی شمشیر نہ تھی Ils semblaient vivants, mais portaient la mort en eux,Le meurtrier n’avait pourtant brandi aucun feu. Sie wirkten lebendig, doch innerlich tot,Kein Schwert in der Hand – und dennoch das Lot. 生きてるようで 死んでいた人々、殺し手の手には刃などなかったのに。 看似生者,其实早已遇害,凶手的手中,却未曾见刀影。 लोग ज़िंदा लगे, मगर थे मरे हुए,हाथ क़ातिल के खाली थे — कोई तलवार न थी उसमें छुपे हुए।
Read MoreTag: شہزاد احمد کی غزلیں
شہزاد احمد ۔۔۔ پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے
پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے معزز ہو گئے ہم بھی، شرافت چھوڑ دی ہم نے میسر آ چکی ہے سربلندی مڑ کے کیوں دیکھیں امامت مل گئی ہم کو تو امت چھوڑ دی ہم نے کسے معلوم کیا ہوگا مآل آئندہ نسلوں کا جواں ہو کر بزرگوں کی روایت چھوڑ دی ہم نے یہ ملک اپنا ہے اور اس ملک کی سرکار اپنی ہے ملی ہے نوکری جب سے بغاوت چھوڑ دی ہم نے ہے اتنا واقعہ اس سے نہ ملنے کی قسم کھا لی تأسف…
Read More