لوگ زندہ نظر آتے تھے مگر تھے مقتول دست قاتل میں بظاہر کوئی شمشیر نہ تھی Ils semblaient vivants, mais portaient la mort en eux,Le meurtrier n’avait pourtant brandi aucun feu. Sie wirkten lebendig, doch innerlich tot,Kein Schwert in der Hand – und dennoch das Lot. 生きてるようで 死んでいた人々、殺し手の手には刃などなかったのに。 看似生者,其实早已遇害,凶手的手中,却未曾见刀影。 लोग ज़िंदा लगे, मगर थे मरे हुए,हाथ क़ातिल के खाली थे — कोई तलवार न थी उसमें छुपे हुए।
Read MoreTag: شہزاد احمد کی نظمیں
شہزاد احمد ۔۔۔ پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے
پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے معزز ہو گئے ہم بھی، شرافت چھوڑ دی ہم نے میسر آ چکی ہے سربلندی مڑ کے کیوں دیکھیں امامت مل گئی ہم کو تو امت چھوڑ دی ہم نے کسے معلوم کیا ہوگا مآل آئندہ نسلوں کا جواں ہو کر بزرگوں کی روایت چھوڑ دی ہم نے یہ ملک اپنا ہے اور اس ملک کی سرکار اپنی ہے ملی ہے نوکری جب سے بغاوت چھوڑ دی ہم نے ہے اتنا واقعہ اس سے نہ ملنے کی قسم کھا لی تأسف…
Read Moreشہزاد احمد
تمام عمر ہوا پھونکتے ہوئے گزری رہے زمیں پہ مگر خاک کا مزا نہ لیا
Read Moreشہزاد احمد ۔۔۔ نئی پود
نئی پود۔۔۔۔۔۔اُڑ کر گلِ نو بہار کی باسآئی ہے اُداس وادیوں میںکھلتے ہوئے سرکشیدہ پودےہاتھوں کو ہلا کر کہہ رہے ہیں” اے دوڑتے وقت کے پیمبر!جھکتے ہوئے پیڑ کو بتا دےٹوٹی ہوئی شاخ کو سنا دےیخ بستہ سمندروں سے کہہ دےان کہر کے چادروں کے پیچھےسورج کی تمازتیں جواں ہیںاور وقت کے قافلے رواں ہیں”
Read Moreشہزاد احمد ۔۔۔ نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے
نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے وہ مجھے دیکھ کے پہچان لیا کرتے تھے آخرِ کار ہوئے تیری رضا کے پابند ہم کہ ہر بات پہ اصرار کیا کرتے تھے خاک ہیں اب تری گلیوں کی وہ عزت والے جو ترے شہر کا پانی نہ پیا کرتے تھے اب تو انسان کی عظمت بھی کوئی چیز نہیں لوگ پتھر کو خدا مان لیا کرتے تھے دوستو! اب مجھے گردن زَدَنی کہتے ہو تم وہی ہو کہ مرے زخم سیا کرتے تھے ہم جو دستک کبھی دیتے تھے…
Read Moreشہزاد احمد ۔۔۔ نئی پود
نئی پود ۔۔۔۔ اُڑ کر گلِ نو بہار کی باس آئی ہے اُداس وادیوں میں کھلتے ہوئے سرکشیدہ پودے ہاتھوں کو ہلا کر کہہ رہے ہیں "اے دوڑتے وقت کے پیمبر! جھکتے ہوئے پیڑ کو بتا دے ٹوٹی ہوئی شاخ کو سُنا دے یخ بستہ سمندروں سے کہہ دے اِن کہر کی چادروں کے پیچھے سورج کی تمازتیں جواں ہیں اور وقت کے قافلے رواں ہیں” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: ادھ کُھلا دریچہ پبلشر: علی برادرز، لاہور سنِ اشاعت: ۱۹۷۷ء
Read More