شہزاد احمد ۔۔۔ نئی پود

نئی پود۔۔۔۔۔۔اُڑ کر گلِ نو بہار کی باسآئی ہے اُداس وادیوں میںکھلتے ہوئے سرکشیدہ پودےہاتھوں کو ہلا کر کہہ رہے ہیں” اے دوڑتے وقت کے پیمبر!جھکتے ہوئے پیڑ کو بتا دےٹوٹی ہوئی شاخ کو سنا دےیخ بستہ سمندروں سے کہہ دےان کہر کے چادروں کے پیچھےسورج کی تمازتیں جواں ہیںاور وقت کے قافلے رواں ہیں”

Read More

شہزاد احمد ۔۔۔ نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے

نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے وہ مجھے دیکھ کے پہچان لیا کرتے تھے آخرِ کار ہوئے تیری رضا کے پابند ہم کہ ہر بات پہ اصرار کیا کرتے تھے خاک ہیں اب تری گلیوں کی وہ عزت والے جو ترے شہر کا پانی نہ پیا کرتے تھے اب تو انسان کی عظمت بھی کوئی چیز نہیں لوگ پتھر کو خدا مان لیا کرتے تھے دوستو! اب مجھے گردن زَدَنی کہتے ہو تم وہی ہو کہ مرے زخم سیا کرتے تھے ہم جو دستک کبھی دیتے تھے…

Read More

شہزاد احمد

کمروں میں چھپنے کے دن ہیں اور نہ برہنہ راتیں ہیں اب آپس میں کرنے والی اور بہت سی باتیں ہیں

Read More

یہ دائرے کا سفر نہیں ہے  ۔۔۔۔۔ شہزاد احمد

یہ دائرے کا سفر نہیں ہے ! …………………………….. یہ دائرے کا سفر نہیں ہے مگر میں محسوس کر رہا ہوں تمام چیزیں وہیں پڑی ہیں، جہاں پڑی تھیں یہ چارسُو پھیلتا سمندر کہ جس کے مرکز میں مَیں کھڑا ہوں کسی اپاہج فقیر کی طرح، ایک گوشے میں سَرنِگوں ہے بہت سکوں ہے! نہ کوئی جنبش، نہ کوئی لرزش، نہ کوئی خواہش یہ بے حسی حشر تک چلے گی یہ رات شاید نہیں ڈھلے گی فلک ستاروں کو ساتھ لے کر اگر یونہی گھومتا رہے گا تو کیسے اندازہ ہو…

Read More

شہزاد احمد ۔۔۔ منتظر دشتِ دل و جاں ہے کہ تو آئے

منتظر دشتِ دل و جاں ہے کہ تو آئے سارے منظر ہی بدل جائیں اگر تو آئے بے ہنر ہاتھ چمکنے لگا سورج کی طرح آج ہم کس سے ملے، آج کسے چھو آئے ہم تجھے دیکھتے ہی نقش بہ دیوار ہوئے اب وہی تجھ سے ملے گا جسے جادو آئے اپنے ہی عکس کو پانی میں کہاں تک دیکھوں ہجر کی شام ہے، کوئی تو لبِ جو آئے کسی جانب نظر آتا نہیں بادل کوئی اور جب سیلِ بلا آئے تو ہر سو آئے چاہتا ہوں کہ ہو پرواز…

Read More

پہلی دُھوپ ۔۔۔۔ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے شعراء کا منتخب کلام (1997ء)

پہلی دھوپ ۔۔۔۔ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے شعراء کا منتخب کلام DOWNLOAD

Read More