پھر اسی آنکھ کا نظارا ہے جس کا نشہ ابھی اتارا ہے راز یہ دل پہ آشکارا ہے تو محبت کا استعارا ہے اک طرف ہجر کی مسافت ہے اک طرف درد کا کنارا ہے کس طرح میں جدا کروں تجھ کو تو مجھے جان سے بھی پیارا ہے دلِ بےتاب روٹھ مت جانا تو مرا آخری سہارا ہے زندگانی کا پوچھتے ہو کیا ایک اڑتا ہوا غبارہ ہے پھر جنوں کی نمود ہے مجھ میں پھر مجھے دشت نے پکارا ہے بازئ عشق میں نہیںکھلتا کون جیتا ہے کون…
Read MoreTag: Asif Shafi
آصف شفیع
یہ محبت کا علاقہ ہے، یہاں دل ہی کافی ہے نگہبانی کو
Read Moreآصف شفیع … عشق میں رنجِ کشتگاں کی خیر
عشق میں رنجِ کشتگاں کی خیرمانگیے شہرِ گلرخاں کی خیر بیڑیاں توڑ دی ہیں وحشت نےاب زمیں کی نہ آسماں کی خیر ایک طوفان اٹھ رہا ہے یہاںناؤ کی خیر، بادباں کی خیر لبِ دریائے حسن بیٹھے ہیںآگہی! تیرے تشنگاں کی خیر شمع روشن رہے محبت کیرونقِ بزمِ دوستاں کی خیر شاخِ دل پر ترا ٹھکانا ہےزندگی! تیرے آشیاں کی خیر جب خدا ہی نہ سن رہا ہو میاںپھر کہاں کی اماں، کہاں کی خیر رہگذارِ جہانِ ہستی پرچلنے والوں کی، رفتگاں کی خیر رہنما ہی ہے راہزن آصفرہرووں کی،…
Read Moreآصف شفیع
آصف شفیع
مَیں چپ ہوں اب اُسے کیسے بتاؤں کوئی اندر سے کیسے ٹوٹتا ہے
Read Moreآصف شفیع … جہانِ حرف کی جانب جھکاؤ تھا ہی نہیں
جہانِ حرف کی جانب جھکاؤ تھا ہی نہیں سخنوری سے کچھ اُس کو لگاؤ تھا ہی نہیں ہمیں تو خاک اُڑاناتھی، بس اُڑا آئے ہمارا دشت میں کوئی پڑاؤ تھا ہی نہیں میں رو پڑا یہ بتاتے ہوئے “ میں جب لوٹا” وہ لوگ، خیمے، وہ جلتا الاؤ تھا ہی نہیں وفا میں جاں سے نہ جاتے تو اور کیا کرتے ہمارے پاس کوئی اور داؤ تھا ہی نہیں اسی لیے مرے حصے میں آئی جنسِ وفا لگا دیا تھا جو میں نے وہ بھاؤ تھا ہی نہیں ہوا کے…
Read Moreآصف شفیع … صدیوں سے اجنبی
صدیوں سے اجنبی ……………………. اُس کی قربت میں بیتے سب لمحے میری یادوں کا ایک سرمایہ خوشبوئوں سے بھرا بدن اس کا دل کو بھاتا تھا بانکپن اُس کا شعلہ افروز حسن تھا اُس کا دلکشی کا وہ اک نمونہ تھی مجھ سے جب ہمکلام ہوتی تھی خواہشوں کے چمن میں ہر جانب چاہتوں کے گلاب کھلتے تھے اُس کی قربت میں ایسے لگتا تھا اک پری آسماں سے اتری ہو جب کبھی میں یہ پوچھتا اُس سے ساتھ میرے چلو گی تم کب تک مجھ سے قسمیں اُٹھا کے…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ آصف شفیع
شہر طیبہ میں جب قدم رکھنا فکرِ دنیا کو دل میں کم رکھنا سب گناہوں کو اشک دھو ڈالیں اپنی آنکھوں کو ایسے نم رکھنا آپ محشر میں ہاتھ تھامیں گے میرے آقا! مرا بھرم رکھنا کتنا مشکل ہے حاضری کے سمے اپنے اوسان کو بہم رکھنا آگہی کی ہے اولیں منزل رایگانی کا دل میں غم رکھنا مرتے دم تک نبی کی حرمت کا ہاتھ میں تھام کر علم رکھنا نعت کی جب چھلک پڑے خوشبو اپنے ہاتھوں سے تب قلم رکھنا شہر ِتقدیس ہے یہاں آصف چلتے پھرتے…
Read Moreآصف شفیع
عجیب ہوتا ہے آزار نارسائی کا یہ ایسا روگ ہے جس کی کسک نہیں جاتی
Read Moreدل کا ہر ایک ناز اٹھانا پڑا مجھے ۔۔۔ آصف شفیع
دل کا ہر ایک ناز اٹھانا پڑا مجھے اُس بے وفا کی دید کو جانا پڑا مجھے دنیا کو اپنا آپ دکھانے کے واسطے گنگا کو الٹی سمت بہانا پڑا مجھے شہرِ وفا میں چار سو ظلمت تھی اس قدر ہر گام دل کا دیپ جلانا پڑا مجھے صحرا سرشت جسم میں صدیوں کی پیاس تھی دریا کو اپنی سمت بلانا پڑا مجھے دیوانگی کو جب مری رستہ نہ مل سکا سوئے دیارِ عاشقاں جانا پڑا مجھے اقرار کر لیا تھا ہزاروں کے درمیاں سو عمر بھر وہ عہد نبھانا…
Read More