چھپ چھپ کے کہاں تک ترے دیدار ملیں گے اے پردہ نشیں اب سرِ بازار ملیں گے
Read MoreTag: شہزاد احمد
شہزاد احمد
شام ہونے کو ہے جلنے کو ہے شمع محفل سانس لینے کی بھی فرصت نہیں پروانے کو
Read Moreشہزاد احمد
تو کچھ بھی ہو کب تک تجھے ہم یاد کریں گے تا حشر تو یہ دل بھی دھڑکتا نہ رہے گا
Read Moreشہزاد احمد
واقعہ کچھ بھی ہو سچ کہنے میں رسوائی ہے کیوں نہ خاموش رہوں اہل نظر کہلاؤں
Read Moreشہزاد احمد
دل سا وحشی کبھی قابو میں نہ آیا یارو ہار کر بیٹھ گئے جال بچھانے والے
Read Moreشہزاد احمد
یوں تری یاد میں دن رات مگن رہتا ہوں دل دھڑکنا ترے قدموں کی صدا لگتا ہے
Read Moreشہزاد احمد
گزرنے ہی نہ دی وہ رات میں نے گھڑی پر رکھ دیا تھا ہاتھ میں نے
Read Moreشہزاد احمد
لوگ زندہ نظر آتے تھے مگر تھے مقتول دست قاتل میں بظاہر کوئی شمشیر نہ تھی Ils semblaient vivants, mais portaient la mort en eux,Le meurtrier n’avait pourtant brandi aucun feu. Sie wirkten lebendig, doch innerlich tot,Kein Schwert in der Hand – und dennoch das Lot. 生きてるようで 死んでいた人々、殺し手の手には刃などなかったのに。 看似生者,其实早已遇害,凶手的手中,却未曾见刀影。 लोग ज़िंदा लगे, मगर थे मरे हुए,हाथ क़ातिल के खाली थे — कोई तलवार न थी उसमें छुपे हुए।
Read Moreشہزاد احمد ۔۔۔ پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے
پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے معزز ہو گئے ہم بھی، شرافت چھوڑ دی ہم نے میسر آ چکی ہے سربلندی مڑ کے کیوں دیکھیں امامت مل گئی ہم کو تو امت چھوڑ دی ہم نے کسے معلوم کیا ہوگا مآل آئندہ نسلوں کا جواں ہو کر بزرگوں کی روایت چھوڑ دی ہم نے یہ ملک اپنا ہے اور اس ملک کی سرکار اپنی ہے ملی ہے نوکری جب سے بغاوت چھوڑ دی ہم نے ہے اتنا واقعہ اس سے نہ ملنے کی قسم کھا لی تأسف…
Read More