حصارِ خواب سے باہر مِرا دھواں پہنچا
مَیں رات نیند میں چلتے ہوئے کہاں پہنچا
مِرے عمل نے مِرے روز و شب بدل ڈالے
مجھے تو اپنی تگ و تاز سے زیاں پہنچا
کسی بِچھڑتے ہوئے خواب کی رفاقت کو
مِرے یقین سے پہلے مِرا گماں پہنچا
تمام رات درختوں نے انتظار کِیا
پرندے لَوٹ کر آئے نہ کارواں پہنچا
کسی نے ساری طلسمات کو بدل ڈالا
مَیں بامِ یار تلک جب بھی پَرفشاں پہنچا
مجھے تو وقت سے پہلے وہاں پہنچنا تھا
مگر مَیں اور بھی تاخیر سے وہاں پہنچا
ہمارے ذکر سے آباد ہیں در و دیوار
ہمارے عشق کا شہرہ کہاں کہاں پہنچا
کہیں تھے نیند کے ماتے مِرے قریں ساجد
کہیں مَیں جاگنے والوں کے درمیاں پہنچا
