غزل
حرف حرف سطر سطر باب باب لکھ دیا
اُس کے نام زندگی کا انتساب لکھ دیا
پوچھتا تھا مجھ سے وہ حصولِ زندگی ہے کیا
اشک آنکھ سے گرے ، زمیں پہ خواب لکھ دیا
اُس کی جب مثال دی تو سامنے کی بات کی
چاند کہہ دیا کبھی، کبھی گلاب لکھ دیا
جس قدر وہ ہے اُسے بیاں کیا اُسی قدر
کب ہوا کہ میں نے اُس کو بے حساب لکھ دیا
یوں کرم کیا ہے مجھ پہ ربِ کائنات نے
سوچنے سے قبل مجھ کو کامیاب لکھ دیا
