عرفان صدیقی

عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے

Read More

عرفان صدیقی

ہمارے دل کو اک آزار ہے ایسا نہیں لگتا کہ ہم دفتر بھی جاتے ہیں غزل خوانی بھی کرتے ہیں

Read More