عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے
Read MoreTag: عرفان صدیقی
عرفان صدیقی
رات کو جیت تو پاتا نہیں لیکن یہ چراغ کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے
Read Moreعرفان صدیقی
ہمارے دل کو اک آزار ہے ایسا نہیں لگتا کہ ہم دفتر بھی جاتے ہیں غزل خوانی بھی کرتے ہیں
Read Moreعرفان صدیقی ۔۔۔ اِس تکلّف سے نہ پوشاکِ بدن گیر میں آ
اِس تکلّف سے نہ پوشاکِ بدن گیر میں آ خواب کی طرح کبھی خواب کی تعبیر میں آ میں بھی اَے سرخئ بے نام تجھے پہچانوں توُ حنا ہے کہ لہو، پیکرِ تصویر میں آ اُس کے حلقے میں تگ و تاز کی وسعت ہے بہت آہوئے شہر، مری بانہوں کی زنجیر میں آ چارہ گر خیر سے خوش ذوق ہے اَے میری غزل کام اَب تو ہی مرے درد کی تشہیر میں آ وہ بھی آمادہ بہت دِن سے ہے سننے کے لیے اَب تو اَے حرفِ طلب معرضِ…
Read More