سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نقشِ ظفر تھا لوحِ ازل پر لکھا ہوا تلوار کاٹ سکتی تھی کیوں کر لکھا ہوا صحرا کو شادکام کیا اس کی موج نے تھا سرنوشت میں جو سمندر لکھا ہوا تابندہ ہے رگوں میں لہو روشنائی سے دنیا کے نام نامۂ سرورؑ لکھا ہوا مجرائیوں کے قدموں سے لپٹی ہوئی زمیں پیشانیوں پہ بختِ سکندر لکھا ہوا رستہ بدل کے معرکۂ صبر و جور میں کس نے بدل دیا ہے مقدر لکھا ہوا پانی پہ کس کے دستِ بریدہ کی مہر ہے کس کیلئے ہے چشمۂ کوثر…
Read MoreTag: عرفان صدیقی
عرفان صدیقی
عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے
Read Moreعرفان صدیقی
رات کو جیت تو پاتا نہیں لیکن یہ چراغ کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے
Read Moreعرفان صدیقی
ہمارے دل کو اک آزار ہے ایسا نہیں لگتا کہ ہم دفتر بھی جاتے ہیں غزل خوانی بھی کرتے ہیں
Read Moreعرفان صدیقی ۔۔۔ اِس تکلّف سے نہ پوشاکِ بدن گیر میں آ
اِس تکلّف سے نہ پوشاکِ بدن گیر میں آ خواب کی طرح کبھی خواب کی تعبیر میں آ میں بھی اَے سرخئ بے نام تجھے پہچانوں توُ حنا ہے کہ لہو، پیکرِ تصویر میں آ اُس کے حلقے میں تگ و تاز کی وسعت ہے بہت آہوئے شہر، مری بانہوں کی زنجیر میں آ چارہ گر خیر سے خوش ذوق ہے اَے میری غزل کام اَب تو ہی مرے درد کی تشہیر میں آ وہ بھی آمادہ بہت دِن سے ہے سننے کے لیے اَب تو اَے حرفِ طلب معرضِ…
Read More