اچھا ہے وہ بیمار جو اچھا نہیں ہوتا جب تجربے ہوتے ہیں تو دھوکا نہیں ہوتا جس لفظ کو میں توڑ کے خود ٹوٹ گیا ہوں کہتا بھی تو وہ اس کو گوارہ نہیں ہوتا تکذیبِ جنوں کے لیے اک شک ہی بہت ہے بارش کا سمے ہو تو ستارہ نہیں ہوتا کیا کیا در و دیوار مری خاک میں گم ہیں پر اس کو مرا جسم گوارہ نہیں ہوتا ہم لوگ جو کرتے ہیں وہ ہوتا ہی نہیں ہے ہونا جو نظر آتا ہے، ہونا نہیں ہوتا جس دن…
Read Moreمحسن اسرار
نشے میں جو ہے، وہ تو خیر وہ ہے مگر جس شخص کا نشہ اُتر جائے
Read Moreمحسن اسرار
جواب دیتا ہے میرے ہر اک سوال کا وہ مگر سوال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے
Read Moreادا جعفری
یہ شعر ادا جعفری کی لطیف تخیلاتی پرواز اور نسوانی شعری حسیّت کا ایک حسین استعارہ ہے، جس میں جذبۂ محبت، اضطرابِ دروں، اور نگاہ کی جادوگری کو نہایت پراسرار اور باوقار پیرایے میں بیان کیا گیا ہے۔
Read Moreنجیب احمد
زمیں پہ پاؤں ذرا احتیاط سے دھرنا اکھڑ گئے تو قدم پھر کہاں سنبھلتے ہیں
Read Moreنجیب احمد
وہی رشتے وہی ناطے وہی غم بدن سے روح تک اکتا گئی تھی
Read Moreنجیب احمد
اک تری یاد گلے ایسے پڑی ہے کہ نجیبؔ آج کا کام بھی ہم کل پہ اٹھا رکھتے ہیں
Read Moreنجیب احمد
مری زمیں مجھے آغوش میں سمیٹ بھی لے نہ آسماں کا رہوں میں نہ آسماں میرا
Read Moreخالد احمد
چھنک اُٹھے ہیں مرے حلق میں وہی گھنگھرو بس ایک سانس بچا ہے مری رہائی میں
Read Moreنجیب احمد
نجیب اک وہم تھا دو چار دن کا ساتھ ہے لیکن ترے غم سے تو ساری عمر کا رشتہ نکل آیا
Read More