محسن اسرار : اچھا ہے وہ بیمار جو اچھا نہیں ہوتا

اچھا ہے وہ بیمار جو اچھا نہیں ہوتا جب تجربے ہوتے ہیں تو دھوکا نہیں ہوتا جس لفظ کو میں توڑ کے خود ٹوٹ گیا ہوں کہتا بھی تو وہ اس کو گوارہ نہیں ہوتا تکذیبِ جنوں کے لیے اک شک ہی بہت ہے بارش کا سمے ہو تو ستارہ نہیں ہوتا کیا کیا در و دیوار مری خاک میں گم ہیں پر اس کو مرا جسم گوارہ نہیں ہوتا ہم لوگ جو کرتے ہیں وہ ہوتا ہی نہیں ہے ہونا جو نظر آتا ہے، ہونا نہیں ہوتا جس دن…

Read More

محسن اسرار

نشے میں جو ہے، وہ تو خیر وہ ہے مگر جس شخص کا نشہ اُتر جائے

Read More

محسن اسرار

جواب دیتا ہے میرے ہر اک سوال کا وہ مگر سوال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

Read More

ادا جعفری

یہ شعر ادا جعفری کی لطیف تخیلاتی پرواز اور نسوانی شعری حسیّت کا ایک حسین استعارہ ہے، جس میں جذبۂ محبت، اضطرابِ دروں، اور نگاہ کی جادوگری کو نہایت پراسرار اور باوقار پیرایے میں بیان کیا گیا ہے۔

Read More

نجیب احمد

زمیں پہ پاؤں ذرا احتیاط سے دھرنا اکھڑ گئے تو قدم پھر کہاں سنبھلتے ہیں

Read More

نجیب احمد

وہی رشتے وہی ناطے وہی غم بدن سے روح تک اکتا گئی تھی

Read More

نجیب احمد

اک تری یاد گلے ایسے پڑی ہے کہ نجیبؔ آج کا کام بھی ہم کل پہ اٹھا رکھتے ہیں

Read More

نجیب احمد

مری زمیں مجھے آغوش میں سمیٹ بھی لے نہ آسماں کا رہوں میں نہ آسماں میرا

Read More

نجیب احمد

نجیب اک وہم تھا دو چار دن کا ساتھ ہے لیکن ترے غم سے تو ساری عمر کا رشتہ نکل آیا

Read More