نہ کوئی خواب ہمارے ہیں نہ تعبیریں ہیں ہم تو پانی پہ بنائی ہوئی تصویریں ہیں
Read Moreقتیل شفائی
دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی
Read Moreقتیل شفائی
تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں
Read Moreقتیل شفائی
گریباں در گریباں نکتہ آرائی بھی ہوتی ہے بہار آئے تو دیوانوں کی رسوائی بھی ہوتی ہے
Read Moreقتیل شفائی
ستم کے بعد کرم کی ادا بھی خوب رہی جفا تو خیر جفا تھی وفا بھی خوب رہی
Read Moreقتیل شفائی
حدودِ جلوۂ کون و مکاں میں رہتے ہیں نہ جانے اہل نظر کس جہاں میں رہتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
بے خودی میں پہلوئے اقرار پہلے تو نہ تھا اتنا غافل وہ بُتِ عیار پہلے تو نہ تھا
Read Moreقتیل شفائی
چاندی جیسا رنگ ہے تیرا سونے جیسے بال اک تو ہی دھنوان ہے گوری باقی سب کنگال
Read Moreقتیل شفائی
اس پر تمہارے پیار کا الزام بھی تو ہے اچھا سہی قتیلؔ پہ بدنام بھی تو ہے
Read More