کچھ دور تک تو چمکی تھی میرے لہو کی دھار پھر رات اپنے ساتھ بہا لے گئی مجھے
Read Moreزیب غوری
یہ ڈوبتی ہوئی کیا شے ہے تیری آنکھوں میں ترے لبوں پہ جو روشن ہے اس کا نام ہے کیا
Read Moreزیب غوری
کھلی چھتوں سے چاندنی راتیں کترا جائیں گی کچھ ہم بھی تنہائی کے عادی ہو جائیں گے
Read Moreزیب غوری
بے حسی پر مری وہ خوش تھا کہ پتھر ہی تو ہے میں بھی چپ تھا کہ چلو سینے میں خنجر ہی تو ہے
Read Moreزیب غوری
چمک رہا ہے خیمۂ روشن دور ستارے سا دل کی کشتی تیر رہی ہے کھلے سمندر میں
Read Moreزیب غوری
یہ کم ہے کیا کہ مرے پاس بیٹھا رہتا ہے وہ جب تلک مرے دل کو دُکھا نہیں جاتا
Read Moreزیب غوری
میں پیمبر ترا نہیں لیکن مجھ سے بھی بات کر خدا میرے
Read Moreزیب غوری
میرے پاس سے اٹھ کر وہ اس کا جانا ساری کیفیت ہے گزرتے موسم سی
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ مَیں بہر صورت وہی ہوں اور وہی آئینہ ہے
مَیں بہر صورت وہی ہوں اور وہی آئینہ ہے صبح بھی آئینہ میری، رات بھی آئینہ ہے نیند آتی ہے نہ بیداری سے رغبت ہے مجھے دیکھنے والوں پہ میری بے کلی آئینہ ہے جِی میں جو آتا ہے کہہ دیتا ہوں اپنے آپ سے میرے مدّاحوں پہ میری شاعری آئینہ ہے رات اور دن کا تناسب ایک سا ہے میرے ہاں چھائوں بھی آئینہ میری، دھوپ بھی آئینہ ہے جاگنے والوں کو نسبت ہے مِری ظلمات سے نیند کے ماتوں پہ میری روشنی آئینہ ہے ٹِکٹِکی باندھے ہوئے تکتے…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ جہاں سے عکس مِلا، آئنہ وہیں سے مِلا
جہاں سے عکس مِلا، آئنہ وہیں سے مِلا نہیں کہ کوئی کہیں سے، کوئی کہیں سے مِلا اُتر رہے تھے ستارے جب اس کی آنکھوں میں مَیں اپنے آپ سے اور آسماں زمیں سے مِلا فرودگاہ میں جب رات سر اُٹھانے لگی تو مَیں بھی بھیس بدل کر کسی حَسیں سے مِلا یہ خواب کس کی عنایات کا تسلسل ہے یہ آئنہ تو مجھے ایک نازنیں سے مِلا ستارہ گہرے اندھیرے میں جگمگاتا ہے وہ بدگمان مجھے کس قدر یقیں سے مِلا اب اپنی ذات کا اثبات کر رہا ہوں…
Read More