غلام حسین ساجد ۔۔۔ مَیں بہر صورت وہی ہوں اور وہی آئینہ ہے

مَیں بہر صورت وہی ہوں اور وہی آئینہ ہے صبح بھی آئینہ میری، رات بھی آئینہ ہے نیند آتی ہے نہ بیداری سے رغبت ہے مجھے دیکھنے والوں پہ میری بے کلی آئینہ ہے جِی میں جو آتا ہے کہہ دیتا ہوں اپنے آپ سے میرے مدّاحوں پہ میری شاعری آئینہ ہے رات اور دن کا تناسب ایک سا ہے میرے ہاں چھائوں بھی آئینہ میری، دھوپ بھی آئینہ ہے جاگنے والوں کو نسبت ہے مِری ظلمات سے نیند کے ماتوں پہ میری روشنی آئینہ ہے ٹِکٹِکی باندھے ہوئے تکتے…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ جہاں سے عکس مِلا، آئنہ وہیں سے مِلا

جہاں سے عکس مِلا، آئنہ وہیں سے مِلا نہیں کہ کوئی کہیں سے، کوئی کہیں سے مِلا اُتر رہے تھے ستارے جب اس کی آنکھوں میں مَیں اپنے آپ سے اور آسماں زمیں سے مِلا فرودگاہ میں جب رات سر اُٹھانے لگی تو مَیں بھی بھیس بدل کر کسی حَسیں سے مِلا یہ خواب کس کی عنایات کا تسلسل ہے یہ آئنہ تو مجھے ایک نازنیں سے مِلا ستارہ گہرے اندھیرے میں جگمگاتا ہے وہ بدگمان مجھے کس قدر یقیں سے مِلا اب اپنی ذات کا اثبات کر رہا ہوں…

Read More