پھولوں کا تو کیا ذکر جو یہ موسمِ گل ہے
کانٹوں کو بھی احساسِ خزاں ہونے نہ پائے
Related posts
-
راحت اندوری
بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ... -
-
