صحبتِ میکشی سرسری رہ گئی اور جو مینا بھری تھی بھری رہ گئی کیا غضب ہے نشیمن سلگتا رہا اور شاخِ نشیمن ہری رہ گئی آخرش کام آ ہی گئی خامشی لفظ و معنی کی پردہ دری رہ گئی ہر نظر بن گئی اپنے سینے کا تیر اک خلش بن کے دیدہ دری رہ گئی نسلِ آدم سے اتنے اٹھے کردگار اپنے لب سی کے پیغمبری رہ گئی آدمی کا خدا بن گیا آدمی داورِ حشر کی داوری رہ گئی میرا ہر نقشِ پا بن گیا سنگِ میل خضر کی…
Read MoreTag: منظور حسین شور
منظور حسین شور ۔۔۔ مرے دل کی دھڑک اس کے تبسم پر گراں کیوں ہو
مرے دل کی دھڑک اس کے تبسم پر گراں کیوں ہو میں افسانہ ہوں اس کا وہ مرا افسانہ خواں کیوں ہو مرے کام آ گئی آخر مری کاشانہ بر دوشی لپکتی بجلیوں کی زد پہ میرا آشیاں کیوں ہو کناروں سے گزر جانا ہی طوفانوں کی فطرت ہے جہاں دنیا ٹھہر جائے قدم میرا وہاں کیوں ہو ترا جلوہ بھی جب تیرا ہی پردہ ہوتا جاتا ہے تو پھر میری نگاہوں پر نگاہوں کا گماں کیوں ہو نہ میں وارفتۂ مطرب نہ میں جاندادۂ ساقی اگر محفل سے اٹھ…
Read More