افق لکھنوی ۔۔۔ نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا

نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا ادھر سر اس نے کاٹا ایک ادھر ایک اور سر نکلا چڑھایا عرش پر ہم کو کمالِ بت پرستی نے تجلی طور کی دیکھی جو پتھر سے شرر نکلا نہیں گریہ زلیخا وہ نہیں گر یوسفِ مصری تو پھر کیوں مہر کے پنجے سے دامانِ سحر نکلا بخیلوں سے امیدِ فیض کیا ہو آخری دم تک مٹے گل خاک ہو کر اور مٹھی سے نہ زر نکلا ہے شیخ اولادِ آدم کیا جگہ پائے گا جنت میں رسائی کیا وہاں…

Read More

افق لکھنوی ۔۔۔ جب ہمیں جوشِ جنوں سوئے بیاباں لے چلا

جب ہمیں جوشِ جنوں سوئے بیاباں لے چلا شہر سے ہم راہ اپنے فوجِ طفلاں لے چلا ظلم سے تیرے ہمیں غم جان جانے کا نہیں ہم نشانے پر کھڑے ہیں تیر تو ہاں لے چلا وہ لیے جاتے ہیں اس دل کو جو لایا تھا انھیں میزباں کو اپنے گھر میں آج مہماں لے چلا جان لے لے کر ہتھیلی پر چلے لاکھوں شہید سوئے مقتل جب وہ اپنی تیغِ براں لے چلا اور امیدیں بر آئیں فضلِ خالق سے افق پھر بھی غم ہے دل کے میں دل…

Read More

افق لکھنوی ۔۔۔ ہمارے زخم میں ٹھنڈک لہو سے ہوتی رہتی ہے

ہمارے زخم میں ٹھنڈک لہو سے ہوتی رہتی ہے تسلی دل کی تکلیفِ رفو سے ہوتی رہتی ہے زمانہ قدرداں ہوتا ہے صورت اور سیرت کا گلوں کی قدر جیسے رنگ و بو سے ہوتی رہتی ہے نہیں تکلیف سے خالی کسی کا پھولنا پھلنا شجر پر سنگ باری چار سو سے ہوتی رہتی ہے قناعت کرتی رہتی ہے جو سیپی ابرِ نیساں پر بسر درِ عدن کی آبرو سے ہوتی رہتی ہے ہے مجھ پر مہربانی اس قدر تکلیفِ زنداں کی کہ خم گردن مری طوقِ گلو سے ہوتی…

Read More