ہمارے زخم میں ٹھنڈک لہو سے ہوتی رہتی ہے
تسلی دل کی تکلیفِ رفو سے ہوتی رہتی ہے
زمانہ قدرداں ہوتا ہے صورت اور سیرت کا
گلوں کی قدر جیسے رنگ و بو سے ہوتی رہتی ہے
نہیں تکلیف سے خالی کسی کا پھولنا پھلنا
شجر پر سنگ باری چار سو سے ہوتی رہتی ہے
قناعت کرتی رہتی ہے جو سیپی ابرِ نیساں پر
بسر درِ عدن کی آبرو سے ہوتی رہتی ہے
ہے مجھ پر مہربانی اس قدر تکلیفِ زنداں کی
کہ خم گردن مری طوقِ گلو سے ہوتی رہتی ہے
میانِ میکدہ جب دیر تک ساقی نہیں ملتا
تشفی رند کی جام و سبو سے ہوتی رہتی ہے
افق کی مے کشی کی حافظِ شیراز کی صورت
زمانے بھر میں شہرت لکھنؤ سے ہوتی رہتی ہے
