انصر منیر ۔۔۔ جب ترے دام سے گزرتا ہوں

جب ترے دام سے گزرتا ہوں مجمعِ عام سے گزرتا ہوں راس آیا ہے خار زارِ جنوں کتنے آرام سے گزرتا ہے مجھ کو اس کی گلی کا شوق نہیں ہاں مگر کام سے گزرتا ہوں قیس ہوں اور پھر بھی دشت سے میں اب ترے نام سے گزرتا ہوں کُن کے مالک کا معجزہ ہے غزل روز الہام سے گزرتا ہوں صحنِ دل میں مجھے دکھائی دو جسم کے بام سے گزرتا ہوں اب میں انصر یقیں کے رستے سے کیسے ابہام سے گزرتا ہوں انصرمنیر

Read More