دکھائی دینے کے معنی نظر نہیں آتے سرابِ وقت کا آئینہ خانہ سامنے ہے
Read MoreTag: Contemporary Urdu Poetry
شہناز مزمل
حرص و ہوس کے آگے نہ کچھ بھی دکھائی دے انسان اپنے قد سے بھی چھوٹا دکھائی دے
Read Moreثروت حسین ۔۔۔ نقش کچھ ابھارے ہیں فرشِ خاک پر میں نے
نقش کچھ ابھارے ہیں فرشِ خاک پر میں نے نہر اک نکالی ہے وقت کاٹ کر میں نے اُس درخت کے بازو دیر سے کشادہ تھے توڑ ہی لیا آخر ایک برگِ تر میں نے چیخ اک مسرّت کی خون میں سُنائی دی جب شکار کو دیکھا تیر کھینچ کر میں نے میری دسترس میں ہے آسمان مٹی کا اِک لکیر کھینچی ہے دیکھ ہم شجر میں نے جل اُٹھا اندھیرے میں انبساط کا پتھر جب زمین کو دیکھا اُس کو دیکھ کر میں نے میری گفتگو ثروت خواب گاہِ…
Read Moreعزیز قیسی
نہ ہم سیاہی نہ ہم اجالا چراغ ہیں اشکِ آرزو کے کہ ہم سرِ دشت بے کراں ہیں سلگتے رہتے ہیں شام سے ہم
Read Moreایوب رومانی ۔۔۔ جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا
جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا صحنِ گُل چھوڑ گیا، دل میرا پاگل نکلا جب اسے ڈھونڈنے نکلے تو نشاں تک نہ ملا دل میں موجود رہا، آنکھ سے اوجھل نکلا اک ملاقات تھی جو دل کوسدا یاد رہی ہم جسے عمر سمجھتے تھے وہ اک پل نکلا وہ جو افسانۂ غم سن کے ہنسا کرتے تھے اتنا روئے ہیں کہ سب آنکھ کا کاجل نکلا ہم سکوں ڈھونڈنے نکلے تھے، پریشان رہے شہر تو شہر ہے، جنگل بھی نہ جنگل نکلا کون ایوب پریشاں نہیں تاریکی…
Read Moreادا جعفری
صدیوں سے مرے پاؤں تلے جنتِ انساں میں جنت انساں کا پتا ڈھونڈھ رہی ہوں
Read Moreسیف الدین سیف ۔۔۔ مسجد و منبر کہاں ، میخوار و میخانے کہاں
مسجد و منبر کہاں ، میخوار و میخانے کہاں کیسے کیسے لوگ آ جاتے ہیں سمجھانے کہاں یہ کہاں تک پھیلتی جاتی ہیں دل کی وسعتیں حسرتو! دیکھو سمٹ آئے ہیں ویرانے کہاں میں بہت بچ بچ کے گزرا ہوں غمِ ایام سے لُٹ گئے تیرے تصور سے پری خانے کہاں یہ بھی تیرے غم کا اِک بدلا ہوا انداز ہے میں کہاں ورنہ غمِ دوراں کہاں بزم سے وحشت ہے، تنہائی میں جی لگتا نہیں اب کِسی کی یاد لے جائے خدا جانے کہاں سیف ہنگامِ وصال آنکھوں میں…
Read Moreطارق متین ۔۔۔ یہاں کے لوگ ہیں بس اپنے ہی خیال میں گم
یہاں کے لوگ ہیں بس اپنے ہی خیال میں گم کوئی عروج میں گم ہے کوئی زوال میں گم نصابِ عشق میں ہجر و وصال ایک سے ہیں ہے میرے ہجر کا رشتہ ترے وصال میں گم یہ اک نظارہ الگ ہے سبھی نظاروں سے مری نظر کا تسلسل ترے جمال میں گم یہ نازکی مرے شعروں کی بے سبب تو نہیں کہ میری فکرِ سخن ہے اسی غزال میں گم تمھیں ہو کیسے خبر خود مجھے نہیں معلوم میں کس جواب میں گم ہوں میں کس سوال میں گم…
Read Moreباقی احمد پوری
یزیدِ وقت کی بیعت سے انحراف کیا فصیلِ کفر میں انکار سے شگاف کیا
Read Moreسیف الدین سیف ۔۔۔ جب تصور میں نہ پائیں گے تمہیں
جب تصور میں نہ پائیں گے تمھیں پھر کہاں ڈھونڈنے جائیں گے تمھیں تم نے دیوانہ بنایا مجھ کو لوگ افسانہ بنائیں گے تمھیں حسرتو ! دیکھو یہ ویرانۂ دل اِس نئے گھر میں بسائیں گے تمھیں میری وحشت، مرے غم کے قصے لوگ کیا کیا نہ سنائیں گے تمھیں آہ میں کتنا اثر ہوتا ہے یہ تماشا بھی دکھائیں گے تمھیں آج کیا بات کہی ہے تم نے پھر کبھی یاد دلائیں گے تمھیں سیف یوں چھوڑ چلے ہو محفل جیسے وہ یاد نہ آئیں گے تمھیں
Read More