افق لکھنوی ۔۔۔ برائے دشت گردی بخت کے چکر سے جاتے ہیں

برائے دشت گردی بخت کے چکر سے جاتے ہیں رہو تم شاد اے اہلِ وطن ہم گھر سے جاتے ہیں نوید اے خارِ صحرا مژدہ اے دشواریٔ منزل کہ ہم راہِ وفاداری میں چشم و سر سے جاتے ہیں کہاں گم گشتۂ راہِ سعادت ہیں انھیں دیکھیں جو چلتے ہیں نگاہوں میں وہ اس تیور سے جاتے ہیں جلو میں فوجِ غم ہے اردلی میں لشکرِ عسرت بیاباں میں افق ہم ایسے کر و فر سے جاتے ہیں

Read More

افق لکھنوی ۔۔۔ ہمارے زخم میں ٹھنڈک لہو سے ہوتی رہتی ہے

ہمارے زخم میں ٹھنڈک لہو سے ہوتی رہتی ہے تسلی دل کی تکلیفِ رفو سے ہوتی رہتی ہے زمانہ قدرداں ہوتا ہے صورت اور سیرت کا گلوں کی قدر جیسے رنگ و بو سے ہوتی رہتی ہے نہیں تکلیف سے خالی کسی کا پھولنا پھلنا شجر پر سنگ باری چار سو سے ہوتی رہتی ہے قناعت کرتی رہتی ہے جو سیپی ابرِ نیساں پر بسر درِ عدن کی آبرو سے ہوتی رہتی ہے ہے مجھ پر مہربانی اس قدر تکلیفِ زنداں کی کہ خم گردن مری طوقِ گلو سے ہوتی…

Read More

بشیر بدر

اتنا ٹوٹا ہوں کہ چھونے سے بکھر جاؤں گا اب اگر اور دعا دوگے تو مر جاؤں گا!

Read More

پروین شاکر

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

Read More

احمد فراز

اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم

Read More

بشیر بدر

زندگی! میں بھی مسافر ہوں تری کشتی کا تو جہاں مجھ سے کہے گی میں اُتر جاؤں گا

Read More

عنبر بہرائچی

جانے کیا برسا تھا رات چراغوں سے بھور سمے سورج بھی پانی پانی ہے

Read More

خاطر غزنوی

اُن آنکھوں نے لوٹ کے بھی اپنے اوپر بات نہ لی

Read More

محسن اسرار

اکیلے پن کو مرے سلطنت کا درجہ دے پھر اس کے بعد مجھے اُس کا بادشاہ بنا

Read More

احمد ندیم قاسمی

تجھ کو پوجا ہے کہ اصنام پرستی کی ہے میں نے وحدت کے مفاہیم کی کثرت کر دی

Read More