نقش کچھ ابھارے ہیں فرشِ خاک پر میں نے
نہر اک نکالی ہے وقت کاٹ کر میں نے
اُس درخت کے بازو دیر سے کشادہ تھے
توڑ ہی لیا آخر ایک برگِ تر میں نے
چیخ اک مسرّت کی خون میں سُنائی دی
جب شکار کو دیکھا تیر کھینچ کر میں نے
میری دسترس میں ہے آسمان مٹی کا
اِک لکیر کھینچی ہے دیکھ ہم شجر میں نے
جل اُٹھا اندھیرے میں انبساط کا پتھر
جب زمین کو دیکھا اُس کو دیکھ کر میں نے
میری گفتگو ثروت خواب گاہِ جنّت ہے
خواب ہی تو دیکھا ہے خواب سے اُدھر میں نے
