یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں محبتیں نہیں رہتیں گمان رہتے ہیں خدا کرے کہ سنے تو زبانِ خاموشی ترے پڑوس میں کچھ بے زبان رہتے ہیں نہ کیجے تکیہ بزرگوں کی ڈھلتی چھاؤں پر کہاں سروں پہ سدا سائبان رہتے ہیں یہی جہاں ہے ہمارا جہانِ گمشدگی یہی نشان کہ بس بے نشان رہتے ہیں محبتیں جس افق سے طلوع ہوتی ہیں وہیں پہ مل کے زمیں آسمان رہتے ہیں ترے سلوک نے دھندلا دئے سب افسانے ہم اپنے سے بھی بہت بد گمان رہتے ہیں ہر ایک…
Read MoreTag: آہ سنبھلی
آہ سنبھلی ۔۔۔ مت فکرِ مداوا کر اے دستِ مسیحائی
مت فکرِ مداوا کر اے دستِ مسیحائی دریاؤں سے گہری ہے اس زخم کی گہرائی اک منزلِ ہجرت میں جب یاد تری آئی رنگوں کو چرا لائی خوشبو کو اڑا لائی ہر چہرہ پرایا ہے ہر آنکھ میں نفرت ہے جائے گی کہاں لے کر اے شرمِ شناسائی یہ کیسا سویرا تھا کس درد کا سورج تھا ہر روشنی ظلمت کی دہلیز پہ لے آئی جب ہجر مقدر ہے ملنے ہی نہیں دے گا سورج کی تو یکتائی میں چاند کی تنہائی اب تم کو بھی ہونا ہے اوجھل مری…
Read Moreآہ سنبھلی
خدا کرے کہ سنے تو زبانِ خاموشی ترے پڑوس میں کچھ بے زبان رہتے ہیں
Read More