گھر کہیں بھی نہیں ، کوئی بھی نہیں سب گلی کا گمان ہے سائیں
Read MoreCategory: گ
سید آلِ احمد
گرتی ہے جس پہ برق یہی وہ لباس ہے سر پر دکھوں کی کالی ردا اوڑھ کر نہ بیٹھ
Read Moreشہریار
گزرے تھے حسین ابنِ علی رات ادھر سے ہم میں سے مگر کوئی بھی نکلا نہیں گھر سے
Read Moreارشد نعیم
گئے زمانوں سے مجھ کو پکارنے والے میں خود بھی ڈوب چلا ہوں تری صدا کے ساتھ
Read Moreقمر رضا شہزاد کے چند اشعار
گزشتہ عشق کا ہر اک نشان ڈھونڈوں گا میں اپنی کھوئی ہوئی داستان ڈھونڈوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ پھول، پیڑ، پرندے، قلم، چراغ اور تیغ میں ان میں اپنا کوئی ترجمان ڈھونڈوں گا ۔۔۔۔۔ ہزاروں سال پرانے کھنڈر میں گھومتے وقت عجیب بات کہ اپنا نشاں ملا ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ ایک آنسو ہے میرے برتن میں پیاس کس کس کی بجھائی جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں اک روز بہہ نہ جاؤں میں چشمِ گریہ ترے بہاؤ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ میں دیکھتا ہوں یہ دنیا تو غور کرتا ہوں میں یونہی آیا یہاں میرا…
Read Moreمحسن اسرار
گھر میں رہنا مرا گویا اُسے منظور نہیں جب بھی آتا ہے نیا کام بتا جاتا ہے
Read Moreشاہین عباس
گم شدہ شخص تھا سو میں پایا گیا وہیں کہیں خواب کی لو جہاں پڑی، خاک کا رخ جدھر ہوا
Read Moreخالد علیم
گزرنے کا یہاں تھوڑا سا رستا رہ گیا ہے یہ دنیا ہے تو کیا امکانِ دُنیا رہ گیا ہے
Read Moreجگر مراد آبادی
گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز کانٹوں سے بھی نباہ کیے جا رہا ہوں میں
Read Moreشکیب جلالی
گونجتے ہیں، شکیب، خوابوں میں آنے والی کسی صدی کے گیت
Read More