ارشد نعیم ۔۔۔ پو پھوٹے تو چلنے کی تیاری کرتا ہوں

پو پھوٹے تو چلنے کی تیاری کرتا ہوں ایک سفر ہے جس کو خود پر طاری کرتا ہوں پہلے اس کے دل میں درد کا شہر بساتا ہوں اور پھر اس میں اپنا سکہ جاری کرتا ہوں جانے کس کی یاد میں آنکھیں روشن رہتی ہیں جانے کس کے ہجر میں شب بیداری کرتا ہوں خود ہی کر لیتا ہوں پہلے قتل محبت کو اور پھر خود ہی بیٹھ کے گریہ زاری کرتا ہوں روز اسے آنکھوں میں بھر کر روز گراتا ہوں اکثر یوں بھی اپنی دل آزاری کرتا…

Read More

ارشد نعیم

گئے زمانوں سے مجھ کو پکارنے والے میں خود بھی ڈوب چلا ہوں تری صدا کے ساتھ

Read More

ارشد نعیم ۔۔۔ پڑے ہوئے تھے جو ہم تیرے نقشِ پا کے ساتھ

پڑے ہوئے تھے جو ہم تیرے نقشِ پا کے ساتھ بکھر گئے ہیں کسی اجنبی ندا کے ساتھ ترا سوال میں اس سے کروں تو کیسے کروں مکالمہ بھی نہیں ہے مرا خدا کے ساتھ یہ دیکھتے ہی منڈیروں کے خواب ٹوٹ گئے مرے چراغ جو بجھنے لگے ہوا کے ساتھ گئے زمانوں سے مجھ کو پکارنے والے میں خود بھی ڈوب چلا ہوں تری صدا کے ساتھ رواں ہیں کشتیاں صبحِ مراد کی جانب الجھ رہے ہیں مرے بادباں ہوا کے ساتھ

Read More

ارشد نعیم ۔۔۔ منچندا بانی __ ایک گم شدہ خواب کا مغنی

منچندا بانی— ایک گم شدہ خواب کا مغنی منچندا بانی نے آنکھ کھولی تو ایک ہزار سال کے تجربات سے تشکیل پانے والی ہند اسلامی تہذیب ایک حادثے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہندوستان آزادی کی تحریک کا مرکز بنا ہوا تھا اور ہندوستان کی تقسیم آخری مراحل تک تھی اور ایک ایسی ہجرت کے سائے دو قوموں کے سر پر منڈلا رہے تھے جو لہو کی ایک ایسی لکیر چھوڑ جانے والی تھی جسے صدیوں تک مٹانا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ احساس، یہ منڈلاتا ہوا خطرہ ہمیں بانی کے…

Read More

منچندا بانی— ایک گم شدہ خواب کا مغنی ۔۔۔ ارشد نعیم

منچندا بانی — ایک گم شدہ خواب کا مغنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منچندا بانی نے آنکھ کھولی تو ایک ہزار سال کے تجربات سے تشکیل پانے والی ہند اسلامی تہذیب ایک حادثے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہندوستان آزادی کی تحریک کا مرکز بنا ہوا تھا اور ہندوستان کی تقسیم آخری مراحل میں تھی اور ایک ایسی ہجرت کے سائے دو قوموں کے سر پر منڈلا رہے تھے جو لہو کی ایک ایسی لکیر چھوڑ جانے والی تھی جسے صدیوں تک مٹانا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ احساس، یہ منڈلاتا ہوا خطرہ ہمیں…

Read More

شہرِ خموشاں سے گزرتے ہوئے ۔۔۔ ارشد نعیم

شہرِ خموشاں سے گزرتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی بے رحم فسوں کار ۔۔۔ پسِ پردہء خاک ہر سخن ساز کو ۔۔۔ خاموش کیے جاتا ہے کتنے خوش رنگ ۔۔۔ حسیں چہروں کو ۔۔۔ خاک بر دوش کیے جاتا ہے نغمہ گر جو بھی ۔۔۔ یہاں آ جائے ۔۔۔ اُس کو خاموش کیے جاتا ہے

Read More

کسی بے انت لمحے میں….. ارشد نعیم

کسی بے انت لمحے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ جانے کون سا بے انت لمحہ تھا نہ جانے کون سی ہجرت کی ساعت تھی کہ جب میں نے تجھے، تو نے مجھے بے ساختہ آواز دی تھی سفر کی خامشی آواز کے دامن سے پھوٹی تو کھلا ہم پر کہ یہ اک دشت کی جانب روانہ قافلہ ہے جس میں ہم تم چل رہے ہیں عجب بے تاب موسم تھے عجب بے رنگ رستے تھے کوئی وحشت بدن کے ریشے ریشے سے نمایاں تھی عجب اسرار اُس منظر کا حصہ تھا کوئی…

Read More