پو پھوٹے تو چلنے کی تیاری کرتا ہوں ایک سفر ہے جس کو خود پر طاری کرتا ہوں پہلے اس کے دل میں درد کا شہر بساتا ہوں اور پھر اس میں اپنا سکہ جاری کرتا ہوں جانے کس کی یاد میں آنکھیں روشن رہتی ہیں جانے کس کے ہجر میں شب بیداری کرتا ہوں خود ہی کر لیتا ہوں پہلے قتل محبت کو اور پھر خود ہی بیٹھ کے گریہ زاری کرتا ہوں روز اسے آنکھوں میں بھر کر روز گراتا ہوں اکثر یوں بھی اپنی دل آزاری کرتا…
Read MoreTag: ارشد نعیم کی شاعری
ارشد نعیم
گئے زمانوں سے مجھ کو پکارنے والے میں خود بھی ڈوب چلا ہوں تری صدا کے ساتھ
Read Moreارشد نعیم ۔۔۔ پڑے ہوئے تھے جو ہم تیرے نقشِ پا کے ساتھ
پڑے ہوئے تھے جو ہم تیرے نقشِ پا کے ساتھ بکھر گئے ہیں کسی اجنبی ندا کے ساتھ ترا سوال میں اس سے کروں تو کیسے کروں مکالمہ بھی نہیں ہے مرا خدا کے ساتھ یہ دیکھتے ہی منڈیروں کے خواب ٹوٹ گئے مرے چراغ جو بجھنے لگے ہوا کے ساتھ گئے زمانوں سے مجھ کو پکارنے والے میں خود بھی ڈوب چلا ہوں تری صدا کے ساتھ رواں ہیں کشتیاں صبحِ مراد کی جانب الجھ رہے ہیں مرے بادباں ہوا کے ساتھ
Read Moreشہرِ خموشاں سے گزرتے ہوئے ۔۔۔ ارشد نعیم
شہرِ خموشاں سے گزرتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی بے رحم فسوں کار ۔۔۔ پسِ پردہء خاک ہر سخن ساز کو ۔۔۔ خاموش کیے جاتا ہے کتنے خوش رنگ ۔۔۔ حسیں چہروں کو ۔۔۔ خاک بر دوش کیے جاتا ہے نغمہ گر جو بھی ۔۔۔ یہاں آ جائے ۔۔۔ اُس کو خاموش کیے جاتا ہے
Read More