عقل و ہوش اپنے کا رنگیں ہو گیا سب اور رنگ کشورِ دل میں جب آ کر عشق کے تھانے ہوئے
Read MoreTag: سعادت یار خان رنگین کی شاعری
سعادت یار خان رنگین
گر جی میں کچھ نہیں ہے تو دیکھے ہے کیوں مجھے انگلی کو پھیر پھیر کے تیغے کی دھار پر
Read Moreسعادت یار خان رنگین
دم کہیں لیں گے نہ پھر تا بہ عدم تیرے کوچہ سے اگر جائیں گے ہم
Read Moreسعادت یار خان رنگین
غیر کی خاطر سے تم یاروں کو دھمکانے لگے آ کے میرے روبرو تلوار چمکانے لگے
Read Moreسعادت یار خان رنگین …. تا حشر رہے یہ داغ دل کا
تا حشر رہے یہ داغ دل کا یارب نہ بجھے چراغ دل کا ہم سے بھی تنک مزاج ہے یہ پاتے ہی نہیں دماغ دل کا یاں آتشِ عشق سے شب و روز دہکے ہے پڑا ایاغ دل کا اس رشکِ چمن کی یاد میں ہے شاداب ہمیشہ باغ دل کا جینے کا مزا اسی کو ہے بس جس شخص کو ہو فراغ دل کا ہے بادۂ غم سے تیرے دن رات لبریز یہاں ایاغ دل کا معلوم نہیں کسی کو رنگیں دے کون ہمیں سراغ دل کا
Read Moreسعادت یار خان رنگین
ڈر سے میں چپ ہوں ترے ورنہ بھری مجلس میں بات کرتا ہے کوئی تجھ سے اشارات کوئی
Read Moreسعادت یار خان رنگین
ہر کسی سے لگ چلے کیا ذکر ہے امکان کیا ہم اسے پہچانتے ہیں خوب وہ ایسا نہیں
Read Moreسعادت یار خان رنگین
اس کے کوچے میں بہت رہتے ہیں دیوانے پڑے ان میں دیکھا تو میاں رنگیں نہ پہچانے پڑے
Read Moreسعادت یار خان رنگین
بت بنے ہیں یوں تو ہم باتیں بناتے ہیں ہزار بات لیکن وصل کی اصلاً بتا سکتے نہیں
Read More